Khalid Azmi

خالد اعظمی

خالد اعظمی کی غزل

    جب سے میرا مقدر خفا ہو گیا

    جب سے میرا مقدر خفا ہو گیا میں وفادار سے بے وفا ہو گیا میں نے ان کو بھلانے کی کھائی قسم اور حق دوستی کا ادا ہو گیا جس میں خود کو بچانے کی طاقت نہیں آج کے دور میں وہ خدا ہو گیا ہے لگی آگ نفرت کی چاروں طرف دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہو گیا عادت مانوں گا تیرا کبھی میں نہیں حق میں ان ...

    مزید پڑھیے

    رخ سے نقاب اپنے ہٹایا نہ کیجئے

    رخ سے نقاب اپنے ہٹایا نہ کیجئے بدلی میں ہم کو چاند دکھایا نہ کیجئے مدت سے منتظر ہے کریں آپ سے سوال خاموش رہ کے ہم کو ستایا نہ کیجئے رسوائیوں سے عشق کی لگتا ہے ڈر مجھے ماضی کی داستان سنایا نہ کیجئے دوران عشق میں میں بہت رویا کیا ہوں لے لے کے ان کا نام رلایا نہ کیجئے شاداب زخم ...

    مزید پڑھیے

    جن کو علم و شعور ہوتا ہے

    جن کو علم و شعور ہوتا ہے ان سے ہر عیب دور ہوتا ہے اس کی بھرپائی ہو نہیں پاتی عشق میں جو قصور ہوتا ہے نام لیتا ہے جب رقیب مرا ان کے چہرے پہ نور ہوتا ہے ان سے منسوب نام ہے میرا مجھ کو خود پہ غرور ہوتا ہے شعر کی میرے ہے حقیقت یہ ذکر ان کا ضرور ہوتا ہے

    مزید پڑھیے

    زندگی پہ اک احسان کر جائیے

    زندگی پہ اک احسان کر جائیے آپ دل میں ہمارے اتر جائیے دل کا دریا محبت سے لبریز ہے اس میں غوطہ لگا کر نکھر جائے اس زمانے کا کوئی بھروسہ نہیں شام ہونے لگی اپنے گھر جائیے زیست کی راہ دشوار ہے تو مگر راہ ہستی سے ہنس کر گزر جائیے میزبانی کا موقع مجھے بھی ملے آج کی شب میرے گھر ٹھہر ...

    مزید پڑھیے

    آپ کیا مل گئے زندگی مل گئی

    آپ کیا مل گئے زندگی مل گئی جس سے محروم تھا وہ خوشی مل گئی زندگی میں اندھیرا اندھیرا سا تھا آپ کو دیکھ کر روشنی مل گئی معجزہ اک ہوا تم ملے دفعتاً میرے لب سل گئے خاموشی مل گئی ان سے پوچھا کہ کیسی گزرتی ہے اب دیکھا آنکھوں میں ان کی نمی مل گئی میں نے رب سے کہا دے دے دو گز زمیں مجھ کو ...

    مزید پڑھیے