جن کو علم و شعور ہوتا ہے

جن کو علم و شعور ہوتا ہے
ان سے ہر عیب دور ہوتا ہے


اس کی بھرپائی ہو نہیں پاتی
عشق میں جو قصور ہوتا ہے


نام لیتا ہے جب رقیب مرا
ان کے چہرے پہ نور ہوتا ہے


ان سے منسوب نام ہے میرا
مجھ کو خود پہ غرور ہوتا ہے


شعر کی میرے ہے حقیقت یہ
ذکر ان کا ضرور ہوتا ہے