زندگی پہ اک احسان کر جائیے
زندگی پہ اک احسان کر جائیے
آپ دل میں ہمارے اتر جائیے
دل کا دریا محبت سے لبریز ہے
اس میں غوطہ لگا کر نکھر جائے
اس زمانے کا کوئی بھروسہ نہیں
شام ہونے لگی اپنے گھر جائیے
زیست کی راہ دشوار ہے تو مگر
راہ ہستی سے ہنس کر گزر جائیے
میزبانی کا موقع مجھے بھی ملے
آج کی شب میرے گھر ٹھہر جائیے