رخ سے نقاب اپنے ہٹایا نہ کیجئے

رخ سے نقاب اپنے ہٹایا نہ کیجئے
بدلی میں ہم کو چاند دکھایا نہ کیجئے


مدت سے منتظر ہے کریں آپ سے سوال
خاموش رہ کے ہم کو ستایا نہ کیجئے


رسوائیوں سے عشق کی لگتا ہے ڈر مجھے
ماضی کی داستان سنایا نہ کیجئے


دوران عشق میں میں بہت رویا کیا ہوں
لے لے کے ان کا نام رلایا نہ کیجئے


شاداب زخم ہوتے ہیں ذکر رفیق سے
جو درد سو چکا ہے جگایا نہ کیجئے