Dharmendr tijori Wale Azad

دھرمیندر تجوری والے آزاد

دھرمیندر تجوری والے آزاد کی غزل

    ہے اجنبی ناآشنا وہ گھر ترا یہ گھر مرا

    ہے اجنبی ناآشنا وہ گھر ترا یہ گھر مرا دل کی طرح پھر کیوں جلا وہ گھر ترا یہ گھر مرا اک آدمی سے جس طرح اک آدمی کچھ دور ہے ہے پاس ہو کر دور سا وہ گھر ترا یہ گھر مرا اک جھونپڑی پھر اک مکاں پھر اک عمارت خاک پھر کتنے لباسوں میں رہا وہ گھر ترا یہ گھر مرا میں نے بہائے تھے کبھی جو داغ دھونے ...

    مزید پڑھیے

    اک نشہ سا مجھے ہوا کوئی

    اک نشہ سا مجھے ہوا کوئی آنکھ ان سے لڑا رہا کوئی کیا مرے پاس اب نہیں کچھ بھی کیوں نہیں کر رہا دغا کوئی غم مصیبت میں ساتھ دیتا ہے کاش ہو پھر سے حادثہ کوئی یاد تو آپ کو ہی کرتا ہوں یاد آتا ہے دوسرا کوئی

    مزید پڑھیے

    رشتہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

    رشتہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا بیچ کا راستہ نہیں ہوتا میں تیرا ہم نوا نہیں ہوتا کچھ اگر کام کا نہیں ہوتا فائدے فائدے کے چکر میں کچھ بھی تو فائدہ نہیں ہوتا ناخدا بھی تمہیں خدا بھی تم اب وہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا بے وفائی دغا خیانت بھی عشق میں کچھ نیا نہیں ہوتا

    مزید پڑھیے

    کل جو اپنی تھی اب پرائی ہے

    کل جو اپنی تھی اب پرائی ہے بھولنے میں ہی کچھ بھلائی ہے جب سے سمجھے ہیں پیار کے معنی اس نے صورت نہیں دکھائی ہے دھوپ خوشبو کو بھی جلا دے گی خواب یہ آپ کا ہوائی ہے موت بھی زندگی کا حصہ ہے زندگی اک حسیں جدائی ہے قید آنکھوں میں کر لیا جس کو اس کے ہاتھوں میں اب رہائی ہے آنسوؤ کچھ تو ...

    مزید پڑھیے