Akhtar Shumar

اختر شمار

اختر شمار کی غزل

    اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے

    اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے آخر ہم بھی اپنے سامنے ڈٹ جائیں گے ہم خود کو آباد کریں گے اپنے دل میں تیرے آنکھ جزیرے سے اب کٹ جائیں گے دھند سے پار بھی کام کریں گی اپنی نظریں آنکھ کے سامنے سے یہ بادل چھٹ جائیں گے آخر ڈھل جائے گا ''جیون روگ'' کا سورج ہم بھی ''اوکھے دن'' ہیں لیکن کٹ ...

    مزید پڑھیے

    ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف

    ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف تیرے لیے میں پاؤں پہ اپنے جم کے کھڑا تھا ایک طرف ایک اک کر کے ہر منزل کی سمت ہی بھول رہا تھا میں دھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا تیرا رشتہ ایک طرف دونوں سے میں بچ کر تیرے خواب و خیال سے گزر گیا دل کا صحرا ایک طرف تھا آنکھ کا دریا ایک طرف آگے آگے ...

    مزید پڑھیے

    پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے

    پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے کئی ستارے ملے اس گلی میں بکھرے ہوئے مری کہانی سے پہلے ہی جان لے پیارے کہ حادثے ہیں مری زندگی میں بکھرے ہوئے دھنک سی آنکھ کہے بانسری کی لے میں مجھے ستارے ڈھونڈ کے لا نغمگی میں بکھرے ہوئے میں پر سکون رہوں جھیل کی طرح یعنی کسی خیال کسی ...

    مزید پڑھیے

    یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے

    یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے آنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے خون میں شامل اچھوتی خوشبوؤں کے ساتھ ساتھ کیوں کہوں مجھ میں جو بہتا ہے وہ دریا جھوٹ ہے زندگی کے بارے اتنا ہی کہا سچ ...

    مزید پڑھیے

    ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے

    ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے مگر یہ دکھ کہ مری عمر رائیگاں کم ہے مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کر مری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے تجھے خبر بھی کہاں ہے مرے ارادوں کی تو میری سوچتی آنکھوں کا راز داں کم ہے اسی سے ہو گئے مانوس طائران چمن وہ جو کہ باغ کا دشمن ہے باغباں کم ...

    مزید پڑھیے

    اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا

    اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا تب جا کر وہ خون کا دریا پار کیا تھا پتھر پھینک کے لوگوں نے جب عزت بخشی ہم نے اپنے ہاتھوں کو دستار کیا تھا کون سے خواب نے رات اپنی آنکھیں کھولی تھیں کس کی خوشبو نے دل کو بیدار کیا تھا اس نے دل پر قبضہ کیا بن بیٹھا آمر ہم نے جس کی شاہی سے انکار کیا ...

    مزید پڑھیے

    لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا

    لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا ترا پیام تو خاموش سی ہوا نے دیا جلا رہا تھا مجھے میں نے بھی جلانے دیا اجالا اس نے دیا بھی تو کس بہانے دیا ابھی کچھ اور ٹھہر جاتا میرے کہنے پر وہ جانے والا تھا خود ہی سو میں نے جانے دیا وہ اپنی سیر کے قصے مجھے سناتا رہا مجھے تو حال دل اس نے ...

    مزید پڑھیے

    خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے

    خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے دل مرا کوئے ملامت سے نکلتا کیسے سایۂ وہم و گماں چار طرف پھیلا ہے میں ابھی کرب و اذیت سے نکلتا کیسے میری رسوائی اگر ساتھ نہ دیتی میرا یوں سر بزم میں عزت سے نکلتا کیسے میری نظریں جو نہ پڑتیں تو وہاں پچھلی شب اک ستارا سا تری چھت سے نکلتا کیسے میں کہ ...

    مزید پڑھیے

    وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا

    وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا میں خواب خواب میں اس کو صدا دیا کرتا قریب آتی جو تاریخ اس کے ملنے کی وہ اپنے وعدے کی مدت بڑھا دیا کرتا میں زندگی کے سفر میں تھا مشغلہ اس کا وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے مجھ کو گنوا دیا کرتا اسے سمیٹتا میں جب بھی ایک نقطے میں وہ میرے دھیان میں تتلی اڑا دیا ...

    مزید پڑھیے

    ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیں

    ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیں تو نہیں ہے اور تری دھڑکنیں مرے ساتھ ہیں تو نے ایک عمر کے بعد پوچھا ہے حال دل وہی درد و غم وہی حسرتیں مرے ساتھ ہیں ترے ساتھ گزرے حسین لمحوں کی شوخیاں وہی رنگ و بو وہی رونقیں مرے ساتھ ہیں مرے پاؤں میں ہیں زمین کی سبھی گردشیں سبھی آسمان کی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2