Akhtar Shumar

اختر شمار

اختر شمار کی نظم

    دن گزرتے جا رہے ہیں

    ہم بھی مرتے جا رہے ہیں بعد تیرے ہم دکھوں کے آنسوؤں کے باد و باراں میں نہتے دل کے ساتھ بے پناہی راستوں پر پاؤں دھرتے جا رہے ہیں دن گزرتے جا رہے ہیں لمحہ لمحہ خوف کے مارے ہوئے رات دن کے وسوسوں میں کیا خبر کیا بیت جائے اگلے پل اس سفر میں ذہن سوچوں کے تھپیڑوں سے ہے شل اور ہم خود ہی سے ...

    مزید پڑھیے