Akhtar Shumar

اختر شمار

اختر شمار کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے

    اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے آخر ہم بھی اپنے سامنے ڈٹ جائیں گے ہم خود کو آباد کریں گے اپنے دل میں تیرے آنکھ جزیرے سے اب کٹ جائیں گے دھند سے پار بھی کام کریں گی اپنی نظریں آنکھ کے سامنے سے یہ بادل چھٹ جائیں گے آخر ڈھل جائے گا ''جیون روگ'' کا سورج ہم بھی ''اوکھے دن'' ہیں لیکن کٹ ...

    مزید پڑھیے

    ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف

    ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف تیرے لیے میں پاؤں پہ اپنے جم کے کھڑا تھا ایک طرف ایک اک کر کے ہر منزل کی سمت ہی بھول رہا تھا میں دھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا تیرا رشتہ ایک طرف دونوں سے میں بچ کر تیرے خواب و خیال سے گزر گیا دل کا صحرا ایک طرف تھا آنکھ کا دریا ایک طرف آگے آگے ...

    مزید پڑھیے

    پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے

    پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے کئی ستارے ملے اس گلی میں بکھرے ہوئے مری کہانی سے پہلے ہی جان لے پیارے کہ حادثے ہیں مری زندگی میں بکھرے ہوئے دھنک سی آنکھ کہے بانسری کی لے میں مجھے ستارے ڈھونڈ کے لا نغمگی میں بکھرے ہوئے میں پر سکون رہوں جھیل کی طرح یعنی کسی خیال کسی ...

    مزید پڑھیے

    یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے

    یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے آنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے خون میں شامل اچھوتی خوشبوؤں کے ساتھ ساتھ کیوں کہوں مجھ میں جو بہتا ہے وہ دریا جھوٹ ہے زندگی کے بارے اتنا ہی کہا سچ ...

    مزید پڑھیے

    ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے

    ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے مگر یہ دکھ کہ مری عمر رائیگاں کم ہے مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کر مری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے تجھے خبر بھی کہاں ہے مرے ارادوں کی تو میری سوچتی آنکھوں کا راز داں کم ہے اسی سے ہو گئے مانوس طائران چمن وہ جو کہ باغ کا دشمن ہے باغباں کم ...

    مزید پڑھیے

تمام

1 نظم (Nazm)

    دن گزرتے جا رہے ہیں

    ہم بھی مرتے جا رہے ہیں بعد تیرے ہم دکھوں کے آنسوؤں کے باد و باراں میں نہتے دل کے ساتھ بے پناہی راستوں پر پاؤں دھرتے جا رہے ہیں دن گزرتے جا رہے ہیں لمحہ لمحہ خوف کے مارے ہوئے رات دن کے وسوسوں میں کیا خبر کیا بیت جائے اگلے پل اس سفر میں ذہن سوچوں کے تھپیڑوں سے ہے شل اور ہم خود ہی سے ...

    مزید پڑھیے