افق افق نئے سورج نکلتے رہتے ہیں
افق افق نئے سورج نکلتے رہتے ہیں دیے جلیں نہ جلیں داغ جلتے رہتے ہیں مری گلی کے مکیں یہ مرے رفیق سفر یہ لوگ وہ ہیں جو چہرے بدلتے رہتے ہیں زمانے کو تو ہمیشہ سفر میں رہنا ہے جو قافلے نہ چلیں رستے چلتے رہتے ہیں ہزار سنگ گراں ہو ہزار جبر زماں مگر حیات کے چشمے ابلتے رہتے ہیں یہ اور ...