Akhtar Hoshiyarpuri

اختر ہوشیارپوری

معروف شاعر،اپنے نعتیہ کلام کے لیے بھی جانے جاتے ہیں، حکومت پاکستان کے اعزاز’ تمغۂ امتیاز ‘سے سرفراز

Well-known poet, also known for his poems written in the veneration of the prophet; decorated with Tamgha-i-Imtiyaz from Pakistan government

اختر ہوشیارپوری کی غزل

    افق افق نئے سورج نکلتے رہتے ہیں

    افق افق نئے سورج نکلتے رہتے ہیں دیے جلیں نہ جلیں داغ جلتے رہتے ہیں مری گلی کے مکیں یہ مرے رفیق سفر یہ لوگ وہ ہیں جو چہرے بدلتے رہتے ہیں زمانے کو تو ہمیشہ سفر میں رہنا ہے جو قافلے نہ چلیں رستے چلتے رہتے ہیں ہزار سنگ گراں ہو ہزار جبر زماں مگر حیات کے چشمے ابلتے رہتے ہیں یہ اور ...

    مزید پڑھیے

    زمین پر ہی رہے آسماں کے ہوتے ہوئے

    زمین پر ہی رہے آسماں کے ہوتے ہوئے کہیں نہ گھر سے گئے کارواں کے ہوتے ہوئے میں کس کا نام نہ لوں اور نام لوں کس کا ہزاروں پھول کھلے تھے خزاں کے ہوتے ہوئے بدن کہ جیسے ہواؤں کی زد میں کوئی چراغ یہ اپنا حال تھا اک مہرباں کے ہوتے ہوئے ہمیں خبر ہے کوئی ہم سفر نہ تھا پھر بھی یقیں کی ...

    مزید پڑھیے

    حرف بے آواز سے دہکا ہوا

    حرف بے آواز سے دہکا ہوا اک دیا ہوں طاق میں جلتا ہوا اس طرف دیوار کے بھی میں ہی تھا اس طرف بھی میں ہی تھا بیٹھا ہوا آنگنوں میں پھول تھے مہکے ہوئے کھڑکیوں میں چاند تھا ٹھہرا ہوا کورے کاغذ پر عجب تحریر تھی پڑھتے پڑھتے میں جسے اندھا ہوا کیا کہوں دست ہوا کے شعبدے ریت پر اک نام تھا ...

    مزید پڑھیے

    طوفاں سے قریہ قریہ ایک ہوئے

    طوفاں سے قریہ قریہ ایک ہوئے پھر ریت سے چہرہ چہرہ ایک ہوئے چاند ابھرتے ہی اجلی کرنوں سے اوپر کا کمرہ کمرہ ایک ہوئے الماری میں تصویریں رکھتا ہوں اب بچپن اور بڑھاپا ایک ہوئے اس کی گلی کے موڑ سے گزرے کیا تھے سب راہی رستہ رستہ ایک ہوئے دیوار گری تو اندر سامنے تھا دروازہ اور دریچہ ...

    مزید پڑھیے

    وہ جو دیوار آشنائی تھی

    وہ جو دیوار آشنائی تھی اپنی ہی ذات کی اکائی تھی میں سر دشت جاں تھا آوارہ اور گھر میں بہار آئی تھی میلے کپڑوں کا اپنا رنگ بھی تھا پھر بھی قسمت میں جگ ہنسائی تھی اب تو آنکھوں میں اپنا چہرہ ہے کبھی شیشے سے آشنائی تھی اپنی ہی ذات میں تھا میں محفوظ اور پھر خود ہی سے لڑائی تھی اپنی ...

    مزید پڑھیے

    ہم اکثر تیرگی میں اپنے پیچھے چھپ گئے ہیں

    ہم اکثر تیرگی میں اپنے پیچھے چھپ گئے ہیں مگر جب راستوں میں چاند ابھرا چل پڑے ہیں زمانہ اپنی عریانی پہ خوں روئے گا کب تک ہمیں دیکھو کہ اپنے آپ کو اوڑھے ہوئے ہیں مرا بستر کسی فٹ پاتھ پر جا کر لگا دو مرے بچے ابھی سے مجھ سے ترکہ مانگتے ہیں بلند آواز دے کر دیکھ لو کوئی تو ہوگا جو ...

    مزید پڑھیے

    طوفان ابر و باد سے ہر سو نمی بھی ہے

    طوفان ابر و باد سے ہر سو نمی بھی ہے پیڑوں کے ٹوٹنے کا سماں دیدنی بھی ہے ارزاں ہے اپنے شہر میں پانی کی طرح خوں ورنہ وفا کا خون بڑا قیمتی بھی ہے یارو شگفت گل کی صدا پر چلے چلو دشت جنوں کے موڑ پہ کچھ روشنی بھی ہے ٹوٹے ہوئے مکاں ہیں مگر چاند سے مکیں اس شہر آرزو میں اک ایسی گلی بھی ...

    مزید پڑھیے

    بارہا ٹھٹھکا ہوں خود بھی اپنا سایہ دیکھ کر

    بارہا ٹھٹھکا ہوں خود بھی اپنا سایہ دیکھ کر لوگ بھی کترائے کیا کیا مجھ کو تنہا دیکھ کر مجھ کو اس کا غم نہیں سیلاب میں گھر بہہ گئے مسکرایا ہوں میں بے موسم کی برکھا دیکھ کر ریت کی دیوار میں شامل ہے خون زیست بھی اے ہواؤ سوچ کر اے موج دریا دیکھ کر اپنے ہاتھوں اپنی آنکھیں بند کرنی پڑ ...

    مزید پڑھیے

    چہرے کے خد و خال میں آئینے جڑے ہیں

    چہرے کے خد و خال میں آئینے جڑے ہیں ہم عمر گریزاں کے مقابل میں کھڑے ہیں ہر سال نیا سال ہے ہر سال گیا سال ہم اڑتے ہوئے لمحوں کی چوکھٹ پہ پڑے ہیں دیکھا ہے یہ پرچھائیں کی دنیا میں کہ اکثر اپنے قد و قامت سے بھی کچھ لوگ بڑے ہیں شاید کہ ملے ذات کے زنداں سے رہائی دیوار کو چاٹا ہے ہواؤں ...

    مزید پڑھیے

    خواہشیں اتنی بڑھیں انسان آدھا رہ گیا

    خواہشیں اتنی بڑھیں انسان آدھا رہ گیا خواب جو دیکھا نہیں وہ بھی ادھورا رہ گیا میں تو اس کے ساتھ ہی گھر سے نکل کر آ گیا اور پیچھے ایک دستک ایک سایا رہ گیا اس کو تو پیراہنوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی دکھ تو یہ ہے رفتہ رفتہ میں بھی ننگا رہ گیا رنگ تصویروں کا اترا تو کہیں ٹھہرا نہیں اب ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5