Akhtar Hoshiyarpuri

اختر ہوشیارپوری

معروف شاعر،اپنے نعتیہ کلام کے لیے بھی جانے جاتے ہیں، حکومت پاکستان کے اعزاز’ تمغۂ امتیاز ‘سے سرفراز

Well-known poet, also known for his poems written in the veneration of the prophet; decorated with Tamgha-i-Imtiyaz from Pakistan government

اختر ہوشیارپوری کی غزل

    آندھی میں چراغ جل رہے ہیں

    آندھی میں چراغ جل رہے ہیں کیا لوگ ہوا میں پل رہے ہیں اے جلتی رتو گواہ رہنا ہم ننگے پاؤں چل رہے ہیں کہساروں پہ برف جب سے پگھلی دریا تیور بدل رہے ہیں مٹی میں ابھی نمی بہت ہے پیمانے ہنوز ڈھل رہے ہیں کہہ دے کوئی جا کے طائروں سے چیونٹی کے بھی پر نکل رہے ہیں کچھ اب کے ہے دھوپ میں بھی ...

    مزید پڑھیے

    گئے زمانے کی صورت بدن چرائے وہ

    گئے زمانے کی صورت بدن چرائے وہ نئی رتوں کی طرح سے بھی مسکرائے وہ ہزار میری نفی بھی کرے وہ میرا ہے کہ میرے ہونے کا احساس بھی دلائے وہ ہر ایک شخص یہاں اپنے دل کا مالک ہے میں لاکھ اس کو بلاؤں مگر نہ آئے وہ ہوا کی آہٹیں سنتا ہوں دھڑکنوں کی طرح مثال شمع مجھے رات بھر جگائے وہ مرے بدن ...

    مزید پڑھیے

    پہلے تو سوچ کے دوزخ میں جلاتا ہے مجھے

    پہلے تو سوچ کے دوزخ میں جلاتا ہے مجھے پھر وہ شیشے میں مرا چہرہ دکھاتا ہے مجھے شاید اپنا ہی تعاقب ہے مجھے صدیوں سے شاید اپنا ہی تصور لئے جاتا ہے مجھے باہر آوازوں کا اک میلہ لگا ہے دیکھو کوئی اندر سے مگر توڑتا جاتا ہے مجھے یہی لمحہ ہے کہ میں گر کے شکستہ ہو جاؤں صورت شیشہ وہ ...

    مزید پڑھیے

    اپنا سایہ بھی نہ ہمراہ سفر میں رکھنا

    اپنا سایہ بھی نہ ہمراہ سفر میں رکھنا پختہ سڑکیں ہی فقط راہ گزر میں رکھنا غیر محفوظ سمجھ کر نہ غنیم آ جائے دوستو! میں نہ سہی خود کو نظر میں رکھنا کہیں ایسا نہ ہو میں حد خبر سے گزروں کوئی عالم ہو مجھے اپنی خبر میں رکھنا آئنہ ٹوٹ کے بکھرے تو کئی عکس ملے اب ہتھوڑا ہی کف آئنہ گر میں ...

    مزید پڑھیے

    میرے لہو میں اس نے نیا رنگ بھر دیا

    میرے لہو میں اس نے نیا رنگ بھر دیا سورج کی روشنی نے بڑا کام کر دیا ہاتھوں پہ میرے اپنے لہو کا نشان تھا لوگوں نے اس کے قتل کا الزام دھر دیا گندم کا بیج پانی کی چھاگل اور اک چراغ جب میں چلا تو اس نے یہ زاد سفر دیا جاگا تو ماہتاب کی کنجی سرہانے تھی میں خواب میں تھا جب مجھے روشن نگر ...

    مزید پڑھیے

    تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری

    تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری وہ شہر کیا ہوا جس کی تھی ہر گلی میری میں اپنی ذات کی تشریح کرتا پھرتا تھا نہ جانے پھر کہاں آواز کھو گئی میری یہ سرگزشت زمانہ یہ داستان حیات ادھوری بات میں بھی رہ گئی کمی میری ہوائے کوہ ندا اک ذرا ٹھہر کہ ابھی زمانہ غور سے سنتا ہے ان کہی ...

    مزید پڑھیے

    وہ رتجگاتھا کہ افسون خواب طاری تھا

    وہ رتجگاتھا کہ افسون خواب طاری تھا دیئے کی لو پہ ستاروں کا رقص جاری تھا میں اس کو دیکھتا تھا دم بخود تھا حیراں تھا کسے خبر وہ کڑا وقت کتنا بھاری تھا گزرتے وقت نے کیا کیا نہ چارہ سازی کی وگرنہ زخم جو اس نے دیا تھا کاری تھا دیار جاں میں بڑی دیر میں یہ بات کھلی مرا وجود ہی خود ننگ ...

    مزید پڑھیے

    میں حرف دیکھوں کہ روشنی کا نصاب دیکھوں

    میں حرف دیکھوں کہ روشنی کا نصاب دیکھوں مگر یہ عالم کہ ٹہنیوں پر گلاب دیکھوں پرانے خوابوں سے ریزہ ریزہ بدن ہوا ہے یہ چاہتا ہوں کہ اب نیا کوئی خواب دیکھوں یہ راستے تو مری ہتھیلی کے ترجماں ہیں میں ان لکیروں میں زندگی کی کتاب دیکھوں مراجعت کا سفر تو ممکن نہیں رہا ہے میں چلتا جاؤں ...

    مزید پڑھیے

    کچھ نقش ہویدا ہیں خیالوں کی ڈگر سے

    کچھ نقش ہویدا ہیں خیالوں کی ڈگر سے شاید کبھی گزرا ہوں میں اس راہگزر سے گلیاں بھی ہیں سنسان دریچے بھی ہیں خاموش قدموں کی یہ آواز در آئی ہے کدھر سے طاقوں میں چراغوں کا دھواں جم سا گیا ہے اب ہم بھی نکلتے نہیں اجڑے ہوئے گھر سے کیوں کاغذی پھولوں سے سجاتا نہیں گھر کو اس دور کو شکوہ ...

    مزید پڑھیے

    وہ رنگ تمنا ہے کہ صد رنگ ہوا ہوں

    وہ رنگ تمنا ہے کہ صد رنگ ہوا ہوں دیکھو تو نظر ہوں جو نہ دیکھو تو صدا ہوں یا اتنا سبک تھا کہ ہوا لے اڑی مجھ کو یا اتنا گراں ہوں کہ سر راہ پڑا ہوں چہرے پہ اجالا تھا گریباں میں سحر تھی وہ شخص عجب تھا جسے رستے میں ملا ہوں کب دھوپ چلی شام ڈھلی کس کو خبر ہے اک عمر سے میں اپنے ہی سائے میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5