آندھی میں چراغ جل رہے ہیں
آندھی میں چراغ جل رہے ہیں کیا لوگ ہوا میں پل رہے ہیں اے جلتی رتو گواہ رہنا ہم ننگے پاؤں چل رہے ہیں کہساروں پہ برف جب سے پگھلی دریا تیور بدل رہے ہیں مٹی میں ابھی نمی بہت ہے پیمانے ہنوز ڈھل رہے ہیں کہہ دے کوئی جا کے طائروں سے چیونٹی کے بھی پر نکل رہے ہیں کچھ اب کے ہے دھوپ میں بھی ...