میں اس کا نام گھلے پانیوں پہ لکھتا کیا
میں اس کا نام گھلے پانیوں پہ لکھتا کیا وہ ایک موج رواں ہے کہیں پہ رکتا کیا تمام حرف مرے لب پہ آ کے جم سے گئے نہ جانے میں نے کہا کیا اور اس نے سمجھا کیا سبھوں کو اپنی غرض تھی سبھوں کو اپنی بقا مرے لیے مرے نزدیک کوئی آتا کیا ابھرتا چاند مرا ہم سفر تھا دریا میں میں ڈوبتے ہوئے سورج ...