Akhtar Hoshiyarpuri

اختر ہوشیارپوری

معروف شاعر،اپنے نعتیہ کلام کے لیے بھی جانے جاتے ہیں، حکومت پاکستان کے اعزاز’ تمغۂ امتیاز ‘سے سرفراز

Well-known poet, also known for his poems written in the veneration of the prophet; decorated with Tamgha-i-Imtiyaz from Pakistan government

اختر ہوشیارپوری کی غزل

    میں اس کا نام گھلے پانیوں پہ لکھتا کیا

    میں اس کا نام گھلے پانیوں پہ لکھتا کیا وہ ایک موج رواں ہے کہیں پہ رکتا کیا تمام حرف مرے لب پہ آ کے جم سے گئے نہ جانے میں نے کہا کیا اور اس نے سمجھا کیا سبھوں کو اپنی غرض تھی سبھوں کو اپنی بقا مرے لیے مرے نزدیک کوئی آتا کیا ابھرتا چاند مرا ہم سفر تھا دریا میں میں ڈوبتے ہوئے سورج ...

    مزید پڑھیے

    شایان زندگی نہ تھے ہم معتبر نہ تھے

    شایان زندگی نہ تھے ہم معتبر نہ تھے ہاں کم نظر تھے اتنے مگر کم نظر نہ تھے اب کے برس جو پھول کھلا کاغذی ہی تھا اب کے تو دور دور کہیں برگ تر نہ تھے ہر پھول ایک زخم تھا ہر شاخ ایک لاش گویا کہ راہ میں تھیں صلیبیں شجر نہ تھے بادل اٹھے تو ریت کے ذرے برس پڑے ہم کو بھگو گئے ہیں وہ دامن جو ...

    مزید پڑھیے

    شکاری رات بھر بیٹھے رہے اونچی مچانوں پر

    شکاری رات بھر بیٹھے رہے اونچی مچانوں پر مسافر پھر بھی لوٹ آنے کو جا پہنچے ٹھکانوں پر کسی نے جھانک کر دیکھا نہ باہر ہی کوئی آیا ہوا نے عمر بھر کیا کیا نہ دستک دی مکانوں پر خود اپنا عکس رخ ہے جو کسی کو روک لے بڑھ کر وگرنہ آدمی کب مستقل ٹھہرا چٹانوں پر اٹھائے آسماں کے دکھ بھی کس ...

    مزید پڑھیے

    تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا

    تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا اب اپنی صورت کو دیکھتا ہوں کبھی جو صد پیکر آفریں تھا وہ پھر بھی جاں سے عزیز تر تھا طبیعتیں گو جدا جدا تھیں اگرچہ ہم زاد بھی نہیں تھا وہ میرا ہم شکل بھی نہیں تھا میں رک سکوں گا ٹھہر سکوں گا تھکن سفر کی مٹا سکوں گا کہیں تو ...

    مزید پڑھیے

    دشت در دشت عکس در ہے یہاں

    دشت در دشت عکس در ہے یہاں تم بھی آؤ کہ میرا گھر ہے یہاں پھیلتی جا رہی ہے سرخ لکیر جیسے کوئی لہو میں تر ہے یہاں دھوپ سے بچ کے جائیں اور کہاں اپنی ذات اک گھنا شجر ہے یہاں وہی مٹی ہے سب کے چہروں پر آئنہ سب سے با خبر ہے یہاں شاخ در شاخ ایک سایہ ہے چاند جو ہے پس شجر ہے یہاں ڈوب کر جس ...

    مزید پڑھیے

    کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ میں کس نگر کا تھا

    کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ میں کس نگر کا تھا جلتا ہوا چراغ مری رہگزر کا تھا ہم جب سفر پہ نکلے تھے تاروں کی چھاؤں تھی پھر اپنے ہم رکاب اجالا سحر کا تھا ساحل کی گیلی ریت نے بخشا تھا پیرہن جیسے سمندروں کا سفر چشم تر کا تھا چہرے پہ اڑتی گرد تھی بالوں میں راکھ تھی شاید وہ ہم سفر مرے اجڑے ...

    مزید پڑھیے

    دل میں اک جذبۂ بیداد و جفا ہی ہوگا

    دل میں اک جذبۂ بیداد و جفا ہی ہوگا وہ خدا وند بھی ہوگا تو خدا ہی ہوگا گرد سی اڑتی نظر آتی ہے آندھی ہوگی دور تک نقش قدم ہیں کوئی راہی ہوگا ہم سے جو پوچھنا ہے پوچھ لو ورنہ کل تک کس کو اندازۂ نا کردہ گناہی ہوگا کہیں گرتی ہوئی دیواریں کہیں جھکتی چھتیں آپ کہتے ہیں تو یہ قصر وفا ہی ...

    مزید پڑھیے

    کسے خبر جب میں شہر جاں سے گزر رہا تھا

    کسے خبر جب میں شہر جاں سے گزر رہا تھا زمیں تھی پہلو میں سورج اک کوس پر رہا تھا ہوا میں خوشبوئیں میری پہچان بن گئی تھیں میں اپنی مٹی سے پھول بن کر ابھر رہا تھا عجیب سرگوشیوں کا عالم تھا انجمن میں میں سن رہا تھا زمانہ تنقید کر رہا تھا وہ کیسی چھت تھی جو مجھ کو آواز دے رہی تھی وہ ...

    مزید پڑھیے

    جو مجھ کو دیکھ کے کل رات رو پڑا تھا بہت

    جو مجھ کو دیکھ کے کل رات رو پڑا تھا بہت وہ میرا کچھ بھی نہ تھا پھر بھی آشنا تھا بہت میں اب بھی رات گئے اس کی گونج سنتا ہوں وہ حرف کم تھا بہت کم مگر صدا تھا بہت زمیں کے سینے میں سورج کہاں سے اترے ہیں فلک پہ دور کوئی بیٹھا سوچتا تھا بہت مجھے جو دیکھا تو کاغذ کو پرزے پرزے کیا وہ اپنی ...

    مزید پڑھیے

    شام تنہائی دھواں اٹھتا برابر دیکھتے

    شام تنہائی دھواں اٹھتا برابر دیکھتے پھر سر شب چاند ابھرنے کا بھی منظر دیکھتے جنبش لب میں مری آواز کی تصویر ہے کاش وہ بھی بولتے لفظوں کے پیکر دیکھتے ساحلوں پر سیپیاں تھیں اور ہوا کا شور تھا پانیوں میں ڈوبتے تو کوئی گوہر دیکھتے کھڑکیوں کی اوٹ سے اندازہ ہو سکتا نہیں شہر کا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5