حریف داستاں کرنا پڑا ہے
حریف داستاں کرنا پڑا ہے زمیں کو آسماں کرنا پڑا ہے نکل کر آ گئے ہیں جنگلوں میں مکاں کو لا مکاں کرنا پڑا ہے سوا نیزے پہ سورج آ گیا تھا لہو کو سائباں کرنا پڑا ہے بہت تاریک تھیں ہستی کی راہیں بدن کو کہکشاں کرنا پڑا ہے کسے معلوم لمس ان انگلیوں کا ہوا کو راز داں کرنا پڑا ہے وہ شاید ...