Akhtar Hoshiyarpuri

اختر ہوشیارپوری

معروف شاعر،اپنے نعتیہ کلام کے لیے بھی جانے جاتے ہیں، حکومت پاکستان کے اعزاز’ تمغۂ امتیاز ‘سے سرفراز

Well-known poet, also known for his poems written in the veneration of the prophet; decorated with Tamgha-i-Imtiyaz from Pakistan government

اختر ہوشیارپوری کی غزل

    حریف داستاں کرنا پڑا ہے

    حریف داستاں کرنا پڑا ہے زمیں کو آسماں کرنا پڑا ہے نکل کر آ گئے ہیں جنگلوں میں مکاں کو لا مکاں کرنا پڑا ہے سوا نیزے پہ سورج آ گیا تھا لہو کو سائباں کرنا پڑا ہے بہت تاریک تھیں ہستی کی راہیں بدن کو کہکشاں کرنا پڑا ہے کسے معلوم لمس ان انگلیوں کا ہوا کو راز داں کرنا پڑا ہے وہ شاید ...

    مزید پڑھیے

    آگ چولھے کی بجھی جاتی ہے

    آگ چولھے کی بجھی جاتی ہے چاندنی ہے کہ کھلی جاتی ہے جس قدر نیچے اترتا ہوں میں جھیل بھی گہری ہوئی جاتی ہے گرد اٹھی ہے جو مری ٹھوکر سے ایک دیوار بنی جاتی ہے پہرے ہونٹوں پہ بٹھانے والے بات آنکھوں سے بھی کی جاتی ہے لوگ ساحل پہ کھڑے دیکھتے ہیں ناؤ کاغذ کی بہی جاتی ہے

    مزید پڑھیے

    میں نے یوں دیکھا اسے جیسے کبھی دیکھا نہ تھا

    میں نے یوں دیکھا اسے جیسے کبھی دیکھا نہ تھا اور جب دیکھا تو آنکھوں پر یقیں آتا نہ تھا بام و در سے سخت بارش میں بھی اٹھے گا دھواں یوں بھی ہوتا ہے محبت میں کبھی سوچا نہ تھا آندھیوں کو روزن زنداں سے ہم دیکھا کئے دور تک پھیلا ہوا صحرا تھا نقش پا نہ تھا لوگ لائے ہیں کہاں سے شب کو مرمر ...

    مزید پڑھیے

    طلسم گنبد بے در کسی پہ وا نہ ہوا

    طلسم گنبد بے در کسی پہ وا نہ ہوا شرر تو لپکا مگر شعلۂ صدا نہ ہوا ہمیں زمانے نے کیا کیا نہ آئنے دکھلائے مگر وہ عکس جو آئینہ آشنا نہ ہوا بیاض جاں میں سبھی شعر خوبصورت تھے کسی بھی مصرع رنگیں کا حاشیا نہ ہوا نہ جانے لوگ ٹھہرتے ہیں وقت شام کہاں ہمیں تو گھر میں بھی رکنے کا حوصلا نہ ...

    مزید پڑھیے

    شاخوں پہ زخم ہیں کہ شگوفے کھلے ہوئے

    شاخوں پہ زخم ہیں کہ شگوفے کھلے ہوئے اب کے فروغ گل کے عجب سلسلے ہوئے خورشید کا جمال کسے ہو سکا نصیب تاروں کے ڈوبتے ہی رواں قافلے ہوئے اپنا ہی دھیان اور کہیں تھا نظر کہیں ورنہ تھے راہ میں گل‌ و غنچے کھلے ہوئے تم مطمئن رہو کہ نہ دیکھیں نہ کچھ کہیں آنکھوں کے ساتھ ساتھ ہیں لب بھی ...

    مزید پڑھیے

    ایک ہم ہی تو نہیں آبلہ پا آوارہ

    ایک ہم ہی تو نہیں آبلہ پا آوارہ نگہت گل بھی ہوئی باد صبا آوارہ یہ کہیں عمر گزشتہ تو نہیں تم تو نہیں کوئی پھرتا ہے سر شہر وفا آوارہ کون منزل کی خبر دے کسے منزل کی خبر راہرو آبلہ پا راہنما آوارہ دل دھڑکتا ہے سر شام کہ گزرے گا ابھی وادئ شب سے کوئی نغمہ سرا آوارہ اب کوئی کس سے کہے ...

    مزید پڑھیے

    وہ زندگی ہے اس کو خفا کیا کرے کوئی

    وہ زندگی ہے اس کو خفا کیا کرے کوئی پانی کو ساحلوں سے جدا کیا کرے کوئی بارش کا پہلا قطرہ ہی بستی ڈبو گیا اب اپنی جاں کا قرض ادا کیا کرے کوئی جب گرد اڑ رہی ہو حریم خیال میں آئینہ دیکھنے کے سوا کیا گرے کوئی وہ کیا گئے کہ شہر ہی ویران ہو گیا اب جنگلوں میں رہ کے صدا کیا کرے کوئی اپنے ...

    مزید پڑھیے

    اپنے قدموں ہی کی آواز سے چونکا ہوتا

    اپنے قدموں ہی کی آواز سے چونکا ہوتا یوں مرے پاس سے ہو کر کوئی گزرا ہوتا چاندنی سے بھی سلگ اٹھتا ہے ویرانۂ جاں یہ اگر جانتے سورج ہی کو چاہا ہوتا زندگی خواب پریشاں ہے بہار ایک خیال ان کو ملنے سے بہت پہلے یہ سوچا ہوتا دوپہر گزری مگر دھوپ کا عالم ہے وہی کوئی سایہ کسی دیوار سے اترا ...

    مزید پڑھیے

    بجا کہ دشمن جاں شہر جاں کے باہر ہے

    بجا کہ دشمن جاں شہر جاں کے باہر ہے مگر میں اس کو کہوں کیا جو گھر کے اندر ہے تمام نقش پرندوں کی طرح اترے ہیں کہ کاغذوں پہ کھلے پانیوں کا منظر ہے میں ایک شخص جو کنبوں میں رہ گیا بٹ کر میں مشت خاک جو تقسیم ہو کے بے گھر ہے شجر کٹا تو کوئی گھونسلہ کہیں نہ رہا مگر اک اڑتا پرندہ فضا کا ...

    مزید پڑھیے

    مری نگاہ کا پیغام بے صدا جو ہوا

    مری نگاہ کا پیغام بے صدا جو ہوا وہ میری بات سنے کیوں میں بے نوا جو ہوا سواد شہر میں ملتے ہیں لوگ سنگ بدست سواد شہر سے صحرا کو راستہ جو ہوا ملا نہ تو تو غم زندگی کے دیوانے ادھر ہی لوٹ پڑے میں تیرا پتا جو ہوا تمام رات میں سنتا رہا تری آواز ترا خیال ہی مجھ کو تری صدا جو ہوا ہوائے گل ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5