اپنا تمہیں جو کہہ اٹھے دیوانہ وار ہم
اپنا تمہیں جو کہہ اٹھے دیوانہ وار ہم
کچھ بے قرار آپ تھے کچھ بے قرار ہم
قائم ہیں پھول خار سے گلشن کی رونقیں
حسن بہار آپ ہیں درد بہار ہم
دنیائے حسن و عشق کے اسرار کھل گئے
اپنے الم کے جب سے ہوئے رازدار ہم
اڑتی ہے خاک جیسے ہواؤں کے ساتھ ساتھ
پہنچے ہیں منزلوں پہ یوں مثل غبار ہم
پر نور جس کے نور سے شام الم ہوئی
اس روشنیؔ کو ڈھونڈتے ہیں بے قرار ہم