طلباء اپنی یاداشت کے مسائل کس طرح حل کرسکتے ہیں

 یادداشت کو کس طرح بہتر بنایا جاۓ؟

باقاعدہ پڑھائی۔ سارے سال باقاعدہ پڑھنے سے ایک ہی مضمون، بار بار مختلف زاویوں سے آپ کے ذہن تک پہنچے گا، چاہے آپ تھوڑا پڑھیں یا زیادہ پڑھیں لیکن باقائدہ ضرور پڑھیں۔

فعال طریقے سے تعلیم حاصل کریں۔ آپ جتنی دلچسپی اور عملی شرکت کے ساتھ مضمون سیکھیں گے اتنا زیادہ سمجھ میں آۓ گا اور یاد رہے گا۔

ایسی غیر نصابی کتب بھی وقتا فوقتا پڑھتے رہیں جن سے مضمون کے مختلف زادیوں سے واقفیت ہو اور تازہ تحقیقات کا پتہ چلے۔ مثلا عام اخبار اور پیشہ ورانہاختیار رسالے پڑھنے سے مضمون میں دلچسپی اور گہرائی کا اضافہ - وگا۔ آپ کی مرضی ہے کہ یہ کام کتنا اکثر کریں۔ البتہ میری راۓ میں ہے کہ وقتا فوقت ضرور کریں۔

اپنی پڑھائی کے کچھ حصے کسی ہم جماعت کے ساتھ مل کر پڑھیں۔ ایسا کرنے سے رفتار تو کم ہو جاتی ہے لیکن سمجھ اور یادداشت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ ایک اہم فعال طریقہ ہے۔ اس کا ذکر 3C-R والے طریقہ تعلیم میں بھی ہے۔ البتہ رفتار کم ہونے کی وجہ سے غالبا آپ سارا نصاب اس طریقے سے نہیں ہ سکیں گے لیکن نصاب کے زیادہ اہم اور زیادہ مشکل حصے اس طریقے سے پڑھ کتے ہیں۔

کسی کے ساتھ مل کر پڑھنے کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ جب آپ کا پڑھنے کو دل نہیں چاہتا ہو لیکن پڑھنا ضروری بھی ہو۔۔۔ ایسے میں کسی کے ساتھ پڑھنے سے پڑھائی میں دل لگ جاتا ہے۔ ایک بور مضمون دلچسپ بن جاتا ہے ۔ یوں سمجھئے کہ پڑھائی ایک بوجھ کے بجاۓ ایک مشغلہ بن جاتی ہے۔

 

پینتالیس 45 منٹ پڑھنے کے بعد دس یا پندرہ منٹ کا وقفہ لیں تاکہ آپ کا دماغ تازہ دم ہو جاۓ اور یادداشت اچھی ہو۔ اس وقت میں آپ کوئی گھریلو کام کر لیں۔ مثلاً بستر بنانا، کمرہ صاف کرنا، گھریلو کاموں میں والدین کا ہاتھ بٹانا، نماز اور قرآن پڑھنا۔

 

ایسا کرنے سے آپ کی تعلیم آپ کے گھر والوں کے لیے کم بوجھ بنے گی اور سارے گھر کا ماحول بہتر رہے گا۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام سہی لیکن ان کی باقاعدہ مشق آپ کو عام زندگی کی ذمہ داریوں کے لیے تیار رکھے گی۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ چاہے امتحانوں میں جتنی بھی بڑی کامیابی کے ساتھ پاس ہو جائیں۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ عملی زندگی کے میدان میں ان کاموں کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے فیل ( ناکام ہو جائیں۔ بے شک آپ کو تفریح اور گپ شپ کا بھی حق حاصل ہے لیکن مجھے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ آپ اپنی پڑھائی کے بوجھ تلے دب کر گھریلو ذمہ داریوں میں بالکل کورے نہ رہ جائیں۔ کیونکہ کتابی زندگی سے باہر عملی زندگی کے امتحانوں میں بھی کامیابی ضروری ہے ۔

متعلقہ عنوانات