زیاں جگر کا سہی یہ جو شغل بادہ ہے

زیاں جگر کا سہی یہ جو شغل بادہ ہے
دل و نظر کے لیے اس میں کچھ افادہ ہے


دکھائی دی ہے جھلک اس کی ایک مدت بعد
یہ خواب میرے لئے خواب سے زیادہ ہے


ملائے گا یہ کسی شاہراہ سے مجھ کو
مٹا مٹا سا جو قدموں میں میرے جادہ ہے


یہی بچائے گا تم دیکھنا مری بازی
بساط پر جو یہ ناچیز سا پیادہ ہے


یہ سوچ کر وہ مری بات کاٹ دیتے ہیں
کہ ہو نہ ہو یہ کسی بات کا اعادہ ہے


یہاں رہیں گے وہ میرے حریف کے ہم راہ
انہیں گماں ہے مرا دل بہت کشادہ ہے


وہ اہل بزم کی رنگیں نوائی اپنی جگہ
ہزار رنگ لئے میرا حرف سادہ ہے


اگر خدا نے نکالا بتوں کے چکر سے
طواف کعبہ کا اب کے برس ارادہ ہے