زخم دل تار تار مت کرنا

زخم دل تار تار مت کرنا
ذکر ماضی کا یار مت کرنا


ہم نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
ہم سے ذکر بہار مت کرنا


جب تلک مطمئن نہ ہو جاؤ
راز دل آشکار مت کرنا


یہ تبسم سزا نہ بن جائے
یہ خطا بار بار مت کرنا


آنکھ بن کر کے راز داروں میں
ہر کسی کا شمار مت کرنا


لوگ دل میں نفاق رکھتے ہیں
عجلت اعتبار مت کرنا


تجھ کو بزدل شمار کر لیں گے
چھپ کے پیچھے سے وار مت کرنا


زندگی کا بھی ایک مقصد ہے
ہر جگہ جاں نثار مت کرنا