عداوت دل میں رکھتے ہو زباں پر پیار کیا مطلب
عداوت دل میں رکھتے ہو زباں پر پیار کیا مطلب
کبھی نفرت کبھی الفت کا ہے اظہار کیا مطلب
چلو ہم مان لیتے ہیں تمہیں کو رازداں لیکن
کرو ہو راز کو افشا سر بازار کیا مطلب
ابھی تو ٹھیک سے بیٹھے نہیں جانے کی جلدی ہے
اچانک لوٹ کر جانے کا ہے اے یار کیا مطلب
جو تھک کر بیٹھ جاتا ہے اسے مغلوب کہتے ہیں
مسلسل جہد جو کرتا ہے اس کی ہار کیا مطلب
حصول علم کی خاطر تو ضربیں سہنی پڑتی ہیں
غرض اصلاح ہوتی ہے فقط آزار کیا مطلب