عداوت سے اگر تو بے خبر ہوتا تو اچھا تھا

عداوت سے اگر تو بے خبر ہوتا تو اچھا تھا
ترے دل پر محبت کا اثر ہوتا تو اچھا تھا


تعلق اور شکایت لازم و ملزوم ہوتے ہیں
اگر باہم وطیرہ درگزر ہوتا تو اچھا تھا


سکون دل ترے دیدار سے برباد ہوتا ہے
مری نظروں سے پوشیدہ اگر ہوتا تو اچھا تھا


ترے بن بھی سفر تو زندگی کا کٹ ہی جائے گا
مرے ہمدم تو میرا ہم سفر ہوتا تو اچھا تھا


خدا نے تو عیاں کر دی بھلائی بھی برائی بھی
اگر انساں شناس خیر و شر ہوتا تو اچھا تھا