بلندی پر پہنچنا ہے تو پیدا خاکساری کر
بلندی پر پہنچنا ہے تو پیدا خاکساری کر
بڑا بن نے کی خواہش ہے تو عجز و انکساری کر
اگر ہنسنے کی خواہش ہے تو عادت ڈال رونے کی
سکوں درکار ہے تجھ کو تو پیدا بے قراری کر
سر تسلیم خم کر دے مزاج یار کے آگے
جو لازم چیز ہے اس کو نہ ثابت اختیاری کر
برائی کرنے والوں کو تو ہنس کر درگزر کر دے
خوشامد کرنے والوں سے تو ظاہر ناگواری کر
یقیناً نار دوزخ سرد ہوگی چند قطروں سے
ندامت سے ذرا گردن جھکا کر اشک باری کر
فقط آگے نظر رکھنے میں گر جانے کا خطرہ ہے
تو پیچھے دیکھ کر چلنے کی ناداں ہوشیاری کر
یہ دیوانوں کی دنیا ہے عجب کچھ بات ہے اس کی
سکون قلب کو پوچھا تو بولے آہ و زاری کر