یہ مت سمجھنا فقیر ہوں میں

یہ مت سمجھنا فقیر ہوں میں
انا کے حق میں کثیر ہوں میں


مجھے ستارہ سمجھنے والوں
فلک پہ بدر منیر ہوں میں


ہے منصفی میرے دم سے قائم
عدالتوں کی مشیر ہوں میں


ہے مجھ میں زنجیر چاہتوں کی
محبتوں کی اسیر ہوں میں


حقیقتیں مجھ میں خیمہ زن ہیں
صداقتوں کی سفیر ہوں میں


کہاں گئی عشق کی وہ شدت
نہ تو وہ رانجھا نہ ہیر ہوں میں


کہاں رہا تیرگی کا عالم
ازل سے روشن ضمیر ہوں میں


سجا ہے شعروں میں درد میناؔ
غزل کے لہجے کی میرؔ ہوں میں