یہ درد رہے دل میں یہ زخم وفا رکھنا

یہ درد رہے دل میں یہ زخم وفا رکھنا
اللہ محبت کی کھیتی کو ہرا رکھنا


دستک بھی نہ دے کوئی اور گھر میں چلا آئے
اس طرح نہ تم دل کا دروازہ کھلا رکھنا


الجھے گی تو پھر گتھی سلجھائے نہ سلجھے گی
جو بحث چھڑے اس کا قبضے میں سرا رکھنا


کرتیں بھی ہوائیں کیا فطرت کے منافی تھا
روشن کسی مفلس کی کٹیا میں دیا رکھنا


میں زیست کے خاکے میں بھر دوں گا لہو سے رنگ
تم پھول سے ہاتھوں پر تحریر حنا رکھنا


جس نے صف باطل کی آنکھیں نہ چمکنے دیں
سرمے کی جگہ اس کی خاک کف پا رکھنا


مسعودؔ کے ہونٹوں پر شکوہ نہ ترا آئے
جس حال میں بھی رکھنا راضی بہ رضا رکھنا