یہ بری ہے جناب کی عادت

یہ بری ہے جناب کی عادت
چھوڑ دیجے شراب کی عادت


برق کا کام پھونکنا گلشن
مسکرانا گلاب کی عادت


ہم نہیں تھے تو کس نے ڈالی ہے
یہ سوال و جواب کی عادت


لوگ سب جانتے ہیں دنیا میں
دل خانہ خراب کی عادت


چند لوگوں میں ہم نے دیکھی ہے
جاگنے میں بھی خواب کی عادت


رات کی دھن اندھیرا پھیلانا
روشنی آفتاب کی عادت


دل مسعودؔ کی طرح یارو
ٹوٹ جانا حباب کی عادت