بک رہا ہوں سر بازار ذرا دیکھو تو
بک رہا ہوں سر بازار ذرا دیکھو تو
ہے کوئی میرا خریدار ذرا دیکھو تو
گھٹ گیا علم کا معیار ذرا دیکھو تو
کچھ نہیں قیمت فن کار ذرا دیکھو تو
میرے پرکھوں نے جو محنت سے اٹھائی تھی کبھی
گر گئی گھر کی وہ دیوار ذرا دیکھو تو
دیکھتے رہ گئے سب لوگ شکایت ہے یہی
لٹ گئے ہم سر بازار ذرا دیکھو تو
کون یہ تم سے کہے میری طرف ایک نظر
میرے ہمدم مرے غم خوار ذرا دیکھو تو
کس کا گھر لٹ گیا سیلاب حوادث میں یہاں
دوستو آج کا اخبار ذرا دیکھو تو
قافلے والوں سے مسعودؔ چلو بڑھ کے کہو
زیست کی راہ ہے دشوار ذرا دیکھو تو