Masood Bhopali

مسعود پھوپالی

مسعود پھوپالی کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    بیاں اپنی صفائی کر رہا ہے

    بیاں اپنی صفائی کر رہا ہے وہ لفظوں سے لڑائی کر رہا ہے کروڑوں بت اگر ہیں بھی تو بت ہیں خدا تنہا خدائی کر رہا ہے بجھے گی اپنے گھر کی آگ کیسے دھواں پردہ کشائی کر رہا ہے خبر ماں باپ کی پردیس میں کیا مگر بیٹا کمائی کر رہا ہے وہ جس کو ہم نبھائے جا رہے ہیں مسلسل بے وفائی کر رہا ہے حسد ...

    مزید پڑھیے

    سر محفل تماشا ہو گیا ہے

    سر محفل تماشا ہو گیا ہے دل بیتاب رسوا ہو گیا ہے نہ تھی کچھ آبرو آنکھوں میں جس کی وہ قطرہ آج دریا ہو گیا ہے لئے پھرتا تھا دامن میں قیامت تجھے دیوانے اب کیا ہو گیا ہے رخ تاباں کو تیرے جب بھی دیکھا نظر سے چاند میلا ہو گیا ہے جہاں سورج اگا کرتا تھا اکثر اسی گھر میں اندھیرا ہو گیا ...

    مزید پڑھیے

    نہ یہ منظر ہے چمن کا نہ یہ بن کی خوشبو

    نہ یہ منظر ہے چمن کا نہ یہ بن کی خوشبو اف وہ خوشبو کا بدن اف وہ بدن کی خوشبو اس کی آواز میں چاندی کے گجر بجتے ہوئے اس کے لہجے میں گلابوں کے دہن کی خوشبو چین کیسے ہمیں آئے گا وہ جنت ہی سہی اڑ کے پہنچے گی جہاں خاک وطن کی خوشبو کم جنوں خیز نہ تھی اپنی جگہ موج بہار تجھے پایا تو ہوئی ...

    مزید پڑھیے

    یہ بری ہے جناب کی عادت

    یہ بری ہے جناب کی عادت چھوڑ دیجے شراب کی عادت برق کا کام پھونکنا گلشن مسکرانا گلاب کی عادت ہم نہیں تھے تو کس نے ڈالی ہے یہ سوال و جواب کی عادت لوگ سب جانتے ہیں دنیا میں دل خانہ خراب کی عادت چند لوگوں میں ہم نے دیکھی ہے جاگنے میں بھی خواب کی عادت رات کی دھن اندھیرا ...

    مزید پڑھیے

    یہ درد رہے دل میں یہ زخم وفا رکھنا

    یہ درد رہے دل میں یہ زخم وفا رکھنا اللہ محبت کی کھیتی کو ہرا رکھنا دستک بھی نہ دے کوئی اور گھر میں چلا آئے اس طرح نہ تم دل کا دروازہ کھلا رکھنا الجھے گی تو پھر گتھی سلجھائے نہ سلجھے گی جو بحث چھڑے اس کا قبضے میں سرا رکھنا کرتیں بھی ہوائیں کیا فطرت کے منافی تھا روشن کسی مفلس کی ...

    مزید پڑھیے

تمام