نہ یہ منظر ہے چمن کا نہ یہ بن کی خوشبو

نہ یہ منظر ہے چمن کا نہ یہ بن کی خوشبو
اف وہ خوشبو کا بدن اف وہ بدن کی خوشبو


اس کی آواز میں چاندی کے گجر بجتے ہوئے
اس کے لہجے میں گلابوں کے دہن کی خوشبو


چین کیسے ہمیں آئے گا وہ جنت ہی سہی
اڑ کے پہنچے گی جہاں خاک وطن کی خوشبو


کم جنوں خیز نہ تھی اپنی جگہ موج بہار
تجھے پایا تو ہوئی اور بھی سنکی خوشبو


کوچہ در کوچہ یہ آوارہ خرامی کیا ہے
بیٹھ صحبت میں کسی نیک چلن کی خوشبو


ہر طرف رنگ پہ کاغذ کے گلابوں کی بہار
ہر طرف رقص میں پیراہن فن کی خوشبو


مار ڈالے گا شب غم کا یہ جوبن اللہ
چاندنی سے مجھے آتی ہے کفن کی خوشبو


کیوں اڑے پھرتے ہو وعدے کی ہوا میں مسعودؔ
ملنے والی نہیں اس عہد شکن کی خوشبو