یکتائے روزگار ہمارا مکان تھا

یکتائے روزگار ہمارا مکان تھا
نیچے زمیں تھی سر پہ کھلا آسمان تھا


اب شاخ آشیاں ہے نہ تنکے نصیب ہیں
آئے گا ایسا وقت بھی کس کو گمان تھا


آیا جو انقلاب تو سب کچھ بدل گیا
پہلے یہی زمیں تھی یہی آسمان تھا


تنہائیوں نے فرض ضیافت ادا کیا
کل رات اپنے گھر ہی میں میں مہمان تھا


آج ان پہ ملتفت ہے یہی انقلاب ہے
ہم پر بھی یہ زمانہ کبھی مہربان تھا


اس کو سزا دے ہم کو بری کس طرح کرے
منصف کا امتحان ہمارا بیان تھا


کوثرؔ خدا سے کوئی شکایت نہ کیجئے
یہ سوچیے کہ پہلے وہ کیوں مہربان تھا