کوزہ گر میں ترے کس خواب کا چہرہ ہو جاؤں
کوزہ گر میں ترے کس خواب کا چہرہ ہو جاؤں صرف اک جسم کی مہلت ہے میں کیا کیا ہو جاؤں تجھ میں اور مجھ میں بس اک فرق وفا ہی کا ہے میں اگر ترک وفا کر دوں تو تجھ سا ہو جاؤں مجھ کو میرے ہی اندھیرے نے چھپا رکھا ہے جو تری ذات میں آ جاؤں ستارہ ہو جاؤں سوچتے سب ہیں کہانی تو مکمل ہو جائے چاہتا ...