کلدیپ کمار کے تمام مواد

31 غزل (Ghazal)

    کوزہ گر میں ترے کس خواب کا چہرہ ہو جاؤں

    کوزہ گر میں ترے کس خواب کا چہرہ ہو جاؤں صرف اک جسم کی مہلت ہے میں کیا کیا ہو جاؤں تجھ میں اور مجھ میں بس اک فرق وفا ہی کا ہے میں اگر ترک وفا کر دوں تو تجھ سا ہو جاؤں مجھ کو میرے ہی اندھیرے نے چھپا رکھا ہے جو تری ذات میں آ جاؤں ستارہ ہو جاؤں سوچتے سب ہیں کہانی تو مکمل ہو جائے چاہتا ...

    مزید پڑھیے

    تمہارے ہونٹوں سے بجھنے کو جلنا پڑتا ہے

    تمہارے ہونٹوں سے بجھنے کو جلنا پڑتا ہے تمہاری آرزو ہو تو مچلنا پڑتا ہے بہ جسم مل نہیں سکتا سو خوشبو بنتا ہے وہ مرے لئے اسے پیکر بدلنا پڑتا ہے ہمیں بجھاتے ہیں لو پہلے سب چراغوں کی پھر ان چراغوں کے حصے کا جلنا پڑتا ہے پھر انتظار بھی تو کرنا ہوتا ہے تیرا مجھے تو وقت سے پہلے نکلنا ...

    مزید پڑھیے

    ہوائے تیز میں اتنا جلا بجھا ہوں میں

    ہوائے تیز میں اتنا جلا بجھا ہوں میں شب سیاہ سے کہہ دو کہ تھک گیا ہوں میں مجھے تمہاری محبت ابھی قبول نہیں کئی اداس سے چہروں کا آسرا ہوں میں تری گلی کے سوا اور دیکھا بھی کیا ہے کہ تیرے شہر میں اب بھی نیا نیا ہوں میں جو مسئلہ تھا اداسی کا میری ذات کا تھا مجھے لگا تھا محبت میں غم زدہ ...

    مزید پڑھیے

    وہ اس طرح سے مری انجمن میں لوٹ آئے

    وہ اس طرح سے مری انجمن میں لوٹ آئے بھٹک کے جیسے پرندہ وطن میں لوٹ آئے گزر گئی تھی کوئی تتلی مجھ کو چھوتے ہوئے تمام رنگ مرے پیرہن میں لوٹ آئے دو چار دن میں ہی تھک گئے تھے دشت روح میں ہم سو ایک دن اسی شہر بدن میں لوٹ آئے ہمارے جسم میں ڈھلنے لگی تھی خاموشی بھلا ہوا کہ پرندے چمن میں ...

    مزید پڑھیے

    کس حال بے خودی میں کنارے گئے تھے ہم

    کس حال بے خودی میں کنارے گئے تھے ہم جب زندگی کی سمت اتارے گئے تھے ہم ہم پر ٹھہر گئی تھی سر بزم اک نگاہ کس سادگی سے ہائے پکارے گئے تھے ہم ان نیم باز نرگسی آنکھوں سے پوچھئے اس رات کس طرح سے گزارے گئے تھے ہم دھوکے سے ہم سے پار کرائی گئی تھی رات اک صبح کی بساط پہ مارے گئے تھے ہم اس ...

    مزید پڑھیے

تمام