وصل کا دن اور ہجر کی باتیں ایسا نئیں
وصل کا دن اور ہجر کی باتیں ایسا نئیں
دن بھر لڑتے مرتے رہنا اچھا نئیں
تیرا مجھ سے جو بھی کچھ ہے اچھا ہے
اس کو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں رشتہ نئیں
ایسا پل تو خوابوں ہی میں آتا ہے
بوسہ دے کر جب تو بولے غصہ نئیں
اس کو جب بھی غزل دکھاتی ہوں اپنی
کہتا ہے مقطع اچھا ہے مطلع نئیں
یار دعا کتنی مانگے گا بس کر اب
ہوگا وہ جو رب چاہے گا چنتا نئیں