مکمل موت سے پہلے مرا تم خواب ہو جاؤ
مکمل موت سے پہلے مرا تم خواب ہو جاؤ
مری آنکھوں کے کوروں پر ٹھہرتا آب ہو جاؤ
تمہیں بس دیکھنے بھر کو جگر چوکھٹ پہ رکھنا ہو
اجازت رب سے لینی ہو یوں تم نایاب ہو جاؤ
کوئی دیکھے نہیں تم کو کوئی چھو بھی نہیں پائے
مرے سینے میں چھپ جاؤ مرا گرداب ہو جاؤ
میں تنہا ہوں زمانے میں ترا ہونے کی چاہت ہے
نہیں ممکن تو یہ کر دو مرے احباب ہو جاؤ
مرا آغاز ہو تم سے تمہیں پر ختم ہوؤں میں
محبت کے صحیفے میں وفا کا باب ہو جاؤ