کچھ نے پوچھا حال ہمارا کچھ اترا کر چلے گئے

کچھ نے پوچھا حال ہمارا کچھ اترا کر چلے گئے
اچھے میرے دن دیکھے تو سب غم کھا کر چلے گئے


بیگانی محفل میں آخر کب تک ساتھ ٹھہرتے وہ
تھوڑی دیر تو ٹھہرے تھے پھر کام بتا کر چلے گئے


لا وارث لاشوں پر آخر کون ہی اشک بہاتا ہے
سب نے اک تصویر اتاری اور بسرا کر چلے گئے


تم سے بس ملنے بھر کو میں سات سمندر گزری تھی
تم آئے بس رسم نبھانے رسم نبھا کر چلے گئے