کبھی ملے گا تو تیری آنکھوں میں دیکھنا ہے
کبھی ملے گا تو تیری آنکھوں میں دیکھنا ہے
حیا کا پانی نبٹ گیا یا بچا ہوا ہے
دکھا رہا ہے کہ غم نہیں ہے تجھے بچھڑ کر
تو کتنا اندر سسک رہا ہے مجھے پتہ ہے
میں ایسی پاگل کہ اب بھی سپنے سجا رہی ہوں
تو ایسا ضدی نہ جانے کب کا مکر گیا ہے
جو چاہتے ہیں نباہ وہ تو نبھا رہے ہیں
اور ایک تو ہے قسم اٹھا کر پلٹ رہا ہے
تری ہی خاطر خدا سے میں بھی دعا کروں گی
تجھے وہ سب کچھ ملے جو تو نے مجھے دیا ہے