وادی وادی گانے والا آئے گا
وادی وادی گانے والا آئے گا
پھر کب وہ مفلس شہزادہ آئے گا
کیوں میں کہوں تو میرا دوست بھی لگتا ہے
سب کے لبوں پر کل یہ قصہ آئے گا
بنجر دھرتی تاروں سے مت پانی مانگ
پھر کوئی بادل آوارہ آئے گا
خوابوں میں بھی ہم کو یہ امید نہ تھی
آنکھ کھلے پر دھیان نہ تیرا آئے گا
آئینہ آئینہ اترانے والا
میرے آگے بکھرا بکھرا آئے گا