M Kothiyavi Rahi

ایم کوٹھیاوی راہی

  • 1935 - 2005

ایم کوٹھیاوی راہی کے تمام مواد

16 غزل (Ghazal)

    فسوں کر گئی رات پاگل ہوا

    فسوں کر گئی رات پاگل ہوا اڑا لے گئی سرخ آنچل ہوا ہوئی جس گھڑی دھول سے دوستی بنی دشت غربت میں بادل ہوا مجھے زندگی اک گلستاں لگے دکھا چل کے اب اس کو جنگل ہوا جلا دے ارادوں کے طوفان کو بجھا دے اگر تیری مشعل ہوا سڑک پر بدن اک پڑا دیکھ کر چلی گھوم کر سوئے مقتل ہوا خوشی کے چراغوں نے ...

    مزید پڑھیے

    کاجل شام کی آنکھ سے ڈھلکے آنچل تیرے شانے سے

    کاجل شام کی آنکھ سے ڈھلکے آنچل تیرے شانے سے اور ذرا غم بھی لے آئیں یادوں کے ویرانے سے کیا اس نے سوچا ہوگا جب خط میرا پہنچا ہوگا سوچ رہا ہوں دیکھ آؤں میں جا کر کسی بہانے سے چاہت کے دو بدن شہر میں الگ الگ کیوں رہتے ہیں ٹکرانے کی ہمت بھی تھی جب بے درد زمانے سے سونے چاندی کی دیواریں ...

    مزید پڑھیے

    جلے گا چاند ستارے دھواں اڑائیں گے

    جلے گا چاند ستارے دھواں اڑائیں گے ہمارے خواب تری آنکھ میں جب آئیں گے مری نظر سے وہ چہرے اتر نہیں سکتے جنہیں یہ اہل نظر جلد بھول جائیں گے غزل سناؤ بہلنا بہت ضروری ہے ہنسیں گے لوگ ہم آنسو اگر بہائیں گے پھر آئی شام درختوں پہ گھونسلے جاگے مگر ہم آج بھی اے دوست گھر نہ جائیں گے اداس ...

    مزید پڑھیے

    ہجر کا چاند درد کی ندی

    ہجر کا چاند درد کی ندی یہی صورت ہے اپنی دنیا کی ریگزاروں میں سنگ کھلتے ہیں جیسے باغوں میں شاخ شاخ کلی میرا گھر ہے کہ میرؔ صاحب کا اف یہ ہونٹوں پہ تلخ تلخ ہنسی آ گیا موسم زمستاں کیا آگ کی جستجو میں رات کٹی کو بہ کو در بہ در بھٹکتے ہوئے دیکھ لی آج موت کی بھی گلی قفل ہونٹوں کا ٹوٹ ...

    مزید پڑھیے

    اک انجان راہ پر دونوں

    اک انجان راہ پر دونوں مل گئے آج بے خطر دونوں پھول ہے ایک ایک پتھر ہے بن گئے کیسے ہم سفر دونوں فاصلے ایسے کم نہیں ہوں گے چھوڑ دیں اپنا اپنا گھر دونوں ٹکریں لے رہے ہیں دنیا سے دل میں رکھتے نہیں ہیں ڈر دونوں تاڑ لیتے ہیں تاڑنے والے گو ملاتے نہیں نظر دونوں رات اک دوسرے میں ڈوب ...

    مزید پڑھیے

تمام