عقاب فکر اکیلا ہے برف زاروں میں
عقاب فکر اکیلا ہے برف زاروں میں
کہ چاند جاڑے کا جیسے لرزتے تاروں میں
وہ آنکھ نوچ دے جس کو بھری بہاروں میں
لہو کا رنگ نظر آئے آبشاروں میں
چلا ہے قافلۂ عاشقاں کہ شعلہ رخاں
دبی دبی سی ہیں چنگاریاں غباروں میں
سنبھل گیا مرا گرتا بدن اٹھا کے تجھے
میں پھر چلا ہوں پھسلتے ہوئے دیاروں میں
سکوت فکر کے عنواں پہ بات چل نکلی
اک ایسا شعر پڑھ آئے ہیں شہر یاروں میں