ترچھی نظر کے وار چلے

ترچھی نظر کے وار چلے
دل والے دل ہار چلے


گھر نہ چلے اک نفرت سے
الفت سے سنسار چلے


چاہت کی بیساکھی پر
نفرت کے بیمار چلے


دوست جو باغی ہو جائیں
دشمن پر کیا وار چلے


تم ہی نفرت والو بتاؤ
کب تک یہ تکرار چلے


بیچ بھنور میں کشتئ دل
کیسے بن پتوار چلے


جاتے جاتے کہئے مجازؔ
کیا جیتے کیا ہار چلے