میرے سوا یہ کام کوئی اور بھی کرے
میرے سوا یہ کام کوئی اور بھی کرے
دشمن کا احترام کوئی اور بھی کرے
میں نے تو راہ عشق میں خود کو مٹا دیا
اب زندگی تمام کوئی اور بھی کرے
میں نے تو خواب میں بھی یہ سوچا نہیں کبھی
دل میں تیرے قیام کوئی اور بھی کرے
کیا آپ چاہتے ہیں سر بزم اے مجازؔ
روشن وطن کا نام کوئی اور بھی کرے