پھر وہی چاندنی رات ہو
پھر وہی چاندنی رات ہو
تیرے جلووں کی برسات ہو
سہل ہو زندگی کا سفر
ہاتھ میں گر تیرا ہاتھ ہو
دوستوں کو بڑی فکر ہے
کس طرح اب مجھے مات ہو
خود سے بولے زمانہ ہوا
ایرے غیرے سے کیا بات ہو
کہئے کھا کر خدا کی قسم
آپ سے کب ملاقات ہو
اے مجازؔ آئنے کی طرح
صاف اپنی ہر اک بات ہو