مجاز امروہوی کے تمام مواد

5 غزل (Ghazal)

    پاگل کو ہوا سنگ سے یہ پیار مگر کیوں

    پاگل کو ہوا سنگ سے یہ پیار مگر کیوں اس دور میں جینے سے ہے انکار مگر کیوں اے عشق ترے ہونے سے انکار نہیں ہے اچھا نہیں ہوتا ترا بیمار مگر کیوں ہر عہد میں رکھا ہے بھرم ہم نے وفا کا کہتا ہے زمانہ ہمیں غدار مگر کیوں میں سوچتا رہتا ہوں اسی باب میں یارو رونے لگا جنگ جیت کے سردار مگر ...

    مزید پڑھیے

    مجھے دنیا سے نفرت ہو رہی ہے

    مجھے دنیا سے نفرت ہو رہی ہے مگر تم سے محبت ہو رہی ہے ابھی تو امن کا پیکر ہے باقی ابھی سے کیوں بغاوت ہو رہی ہے بزرگوں کی دعا کا فیض ہے یہ مجھے حاصل جو شہرت ہو رہی ہے بڑھاپا بڑھ رہا ہے جیسے جیسے سہارے کی ضرورت ہو رہی ہے مجازؔ خوش نوا کی شاعری میں نمایاں اک حقیقت ہو رہی ہے

    مزید پڑھیے

    پھر وہی چاندنی رات ہو

    پھر وہی چاندنی رات ہو تیرے جلووں کی برسات ہو سہل ہو زندگی کا سفر ہاتھ میں گر تیرا ہاتھ ہو دوستوں کو بڑی فکر ہے کس طرح اب مجھے مات ہو خود سے بولے زمانہ ہوا ایرے غیرے سے کیا بات ہو کہئے کھا کر خدا کی قسم آپ سے کب ملاقات ہو اے مجازؔ آئنے کی طرح صاف اپنی ہر اک بات ہو

    مزید پڑھیے

    میرے سوا یہ کام کوئی اور بھی کرے

    میرے سوا یہ کام کوئی اور بھی کرے دشمن کا احترام کوئی اور بھی کرے میں نے تو راہ عشق میں خود کو مٹا دیا اب زندگی تمام کوئی اور بھی کرے میں نے تو خواب میں بھی یہ سوچا نہیں کبھی دل میں تیرے قیام کوئی اور بھی کرے کیا آپ چاہتے ہیں سر بزم اے مجازؔ روشن وطن کا نام کوئی اور بھی کرے

    مزید پڑھیے

    ترچھی نظر کے وار چلے

    ترچھی نظر کے وار چلے دل والے دل ہار چلے گھر نہ چلے اک نفرت سے الفت سے سنسار چلے چاہت کی بیساکھی پر نفرت کے بیمار چلے دوست جو باغی ہو جائیں دشمن پر کیا وار چلے تم ہی نفرت والو بتاؤ کب تک یہ تکرار چلے بیچ بھنور میں کشتئ دل کیسے بن پتوار چلے جاتے جاتے کہئے مجازؔ کیا جیتے کیا ہار ...

    مزید پڑھیے