مجھے دنیا سے نفرت ہو رہی ہے
مجھے دنیا سے نفرت ہو رہی ہے
مگر تم سے محبت ہو رہی ہے
ابھی تو امن کا پیکر ہے باقی
ابھی سے کیوں بغاوت ہو رہی ہے
بزرگوں کی دعا کا فیض ہے یہ
مجھے حاصل جو شہرت ہو رہی ہے
بڑھاپا بڑھ رہا ہے جیسے جیسے
سہارے کی ضرورت ہو رہی ہے
مجازؔ خوش نوا کی شاعری میں
نمایاں اک حقیقت ہو رہی ہے