ٹیک نیوز: ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز خبریں اور ایجادات

ٹیکنالوجی کی دنیا میں روز بروز حیرت انگیز ایجادات ہورہی ہیں، جس سے نہ صرف زندگی آسان ہورہی بلکہ علم و تحقیق کے میدان میں بھی نکھار پیدا ہورہا ہے۔۔۔آج آپ کے لیے ایسی چند دل چسپ اور حیرت انگیز ایجادات لائے ہیں۔۔۔جیسے ہوا میں بغیر تار یا سپورٹ کے معلق رہنے والا بلب، موبائل فون کے ساتھ جڑنے والی ننھی مائیکروسکوپ اور انگلی کو ماؤس بنانے والی ڈیوائس۔۔۔۔

1۔ہوا میں معلق  لائٹ بلب (Levitate Bulb)

دنیا میں ہر سال لاکھوں نئی ​​ایجادات تیار کی جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (WIPO) کے مطابق  2019 میں 33 لاکھ نئی ایجادات  پیٹنٹ کی گئی تھیں۔ایسی ہی ایک نئی ایجاد ہوا میں تیرتا بلب ہے۔

ہوا میں  معلق بلب (Levitating Light Bulb)شاید ہم سب کے لیے ایک جادو جیسی چیز ہی ہے۔ لیویا (Levia) نامی یہ بلب آزادانہ طور پر ہوا تیر رہا ہے لیکن پھر بھی آپ کے کمرے کو روشنی فراہم کرتا ہےجب کہ کوئی تار بلب سے جڑی ہوئی نہیں ہے۔

سویڈن میں ڈیزائن کیا گیا لیویاایک شاندار اور لاجواب ایجاد ہے۔ یہ  ایک لیویٹیٹنگ لائٹ بلب ہےجو برقی مقناطیسی انڈکشن کے ذریعے کام کرتا ہے۔اصلی اطالوی مارکوینا ماربلز سے بنا یہ خوبصورت لیمپ ٹیکنالوجی اور جدت کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔

لیویٹیٹنگ لائٹ بلب کا تصور مقناطیسیت کے اصول پر کام کرتا  ہے۔ چراغ کے بلب اور بیس میں ایسے  مقناطیسی عناصر ہوتے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بلب درمیانی ہوا میں تیرتا ر ہے۔ یہ مقناطیسی لیویٹیشن کے ساتھ برقی مقناطیسی انڈکشن کے اصولوں پر کام کرتا ہے۔ مقناطیسی لیویٹیشن سسٹم دراصل ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ایک چیز کو دوسری پر معلق  کر دیا جاتا ہے۔ اس کا مقناطیسی میدان کشش ثقل کے اثر کا مقابلہ کر سکتا ہے۔اس کا فلیمینٹ لیمپ  جو درمیانی ہوا میں تیرتا ہے، اوپر سے بالکل لٹکا ہوا نظر آتا ہے۔

 لیمپ کو آن کرنے کے لیے آپ کو صرف بیس پر موجود بٹن کو ٹچ کرنا ہوگا۔ لیویا میں ایک اینٹی فال سسٹم بھی ہے جو بلیک آؤٹ، حادثاتی جھٹکوں یا کرنٹ کے بہاؤ میں رکاوٹ کی صورت میں روشنی کے بلب کو (گرنے کی بجائے) اپنے اوپری حصے سے جُڑنے پر مجبور کرتا ہے۔

 لیویا کا انتظام تین الیکٹرانک بورڈز کے ذریعے کیا جاتا ہے: ایک ماربل بیس میں، ایک لیویٹیشن سسٹم میں اور ایک لائٹ بلب میں۔ ڈیوائس کے دو طرفہ اور خودکار انتظام کی بدولت لائٹ بلب کا لیویٹیشن سسٹم بہت موثر اور مستحکم ہے۔

بلب میں کوئی اندرونی بیٹریاں نہیں ہیں اور یہ برقی مقناطیسی انڈکشن کے ذریعے آن ہوتا ہے۔ بلب گرم روشنی کا استعمال کرتا ہے۔

توانائی کی کارکردگی کے لحاظ سے، لیویا انتہائی موثرایل ای ڈیز  کا استعمال کرتا ہے۔ لیویا تقریباً 3 واٹ ​​استعمال کرتا ہے اور اس کی ایل ای ڈی لائٹ کا لائف سائیکل تقریباً 50000 گھنٹے  کے برابرہے۔ یعنی اگر آپ اسےروزانہ 8 گھنٹے استعمال کرتے ہیں تو اس کی زندگی کا دورانیہ تقریباً 17 سال ہوگا۔

لیویا کا استعمال بہت آسان ہے!

آپ کو بلب کو صرف اوپری حصے کے قریب لانا ہوگا (نیچے سے اوپر ) جب تک کہ آپ کو مقناطیسی قوت محسوس نہ ہو اور لیڈ فلیمینٹس بیک وقت آن نہ ہوجائیں۔ اور اب آپ لائٹ بلب کو تیرنے دے سکتے ہیں۔ اگر آپ صرف لیڈ فلیمینٹس کو بند کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو ماربل بیس پر  موجود ٹچ حساس بٹن کو صرف چھونا ہوگا: اس طرح بلب تیرتا رہے گا۔

2۔        موبائل کیمرے سے جڑنے والی ننھی مائیکرو سکوپ (Fingertip Microscope)

            اگرچہ موبائل فون کے کیمرے بہت طاقتور ہو چکے ہیں اور مختلف ایپ کی مدد سےاب  آپ چیزوں کو خاصا بڑا کر کے دیکھ سکتے ہیں لیکن بہرحال یہ کسی خرد بین(microscope) کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ موبائل فون کے کیمروں کو اس صلاحیت سے لیس کرنے کے لیے اب ایک ننھا سا اضافی عدسہ(Lens) تیار کیا گیا ہے ۔ اسے موبائل فون کی کیمرے کے ساتھ لگا کر اس کی مدد سے خرد بین کا کام لیا جا سکتا ہے۔

            17ویں صدی میں جب سے انٹونی وان لیون ہک نے اپنی خوردبین ایجاد کی تھی،تب سے  مائیکروسکوپ ٹیکنالوجی میں بہت ترقی ہوئی ہے۔ بہترین کارکردگی کی حامل خوردبینیں عام طور پر بہت بھاری اور مہنگی ہوتی ہیں اور انھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا بھی مشکل ہوتا ہے۔  یہ نئی ٹیکنالوجی اس مسئلے کا کسی قدر حل پیش کرتی ہے۔

            آئی مائیکرو۔ سی (-C iMicro ) نامی یہ لینز آپ کی انگلی کی نوک (fingertip)کی جسامت کا مختصر لینز ہے۔ اسمارٹ فونز کے لیے استعمال ہونے والے دیگر  تھرڈ پارٹی زوم لینز کی طرح، آپ iMicro کو اپنے اسمارٹ فون کے لینز سے لگا سکتے ہیں اور مائیکرو میٹر کی دنیا کو زیادہ درستگی کے ساتھ دیکھنے سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ نسبتاً کم میگنی فیکیشن پاور کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا یہ لینز،  5 ملی میٹر تک کا  بڑا فیلڈ آف ویو پیش کرتا ہے تاکہ آپ  کومائیکرو آبجیکٹس مثلاََ  چھوٹے الیکٹرانک پرزوں اور چھوٹے کیڑے مکوڑوں کا مشاہدہ کرنے میں مدد مل سکے۔ مائیکرو آپٹکس اور اسمارٹ فون ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت،  یہ صلاحیت اسے شوقین اور پیشہ ور دونوں قسم کے حضرات کے لیے ایک مفید چیز بناتی ہے۔

            یہ اتنا چھوٹا ہے کہ یہ فون کے کیمرے پر بالکل جگہ نہیں گھیرتا۔ اس کے علاوہ، ایک پتلی پی پی کیس میں پیک تمام اشیاء آسانی سے پرس میں فٹ کی جا سکتی ہیں۔

            اس ننھی  خردبین کے لیے، میگنی فیکیشن کے تین مراحل کو ایک ساتھ ملا کر کل میگنی فیکیشن حاصل کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے، لینس اسمارٹ فون کیمرے کے سینسر پر تصویر بنانے کے لیے آپٹیکل میگنی فیکیشن فراہم کرتا ہے۔ دوسرا، سینسر پر موجود تصویر الیکٹرانک عمل اور میگنی فیکیشن کے ذریعے موبائل کی بڑی اسکرین پر ظاہر ہوتی ہے۔ تیسرا، ڈیجیٹل زوم تصویر کو ڈیجیٹل میگنی فیکیشن کے طور پر مزید اضافہ فراہم کرتا ہے۔ کل اضافہ ان تینوں کا مجموعہ ہے جس سے خاصی بڑی اور واضح تصویر حاصل ہوتی ہے۔

 

3۔         پیڈرون رِنگ  جو آپ کی انگلی کو وائرلیس مائوس بنا دے (Padron Ring Mouse)

اگرچہ لیپ ٹاپ کے مائوس پیڈ خاصے حساس بن چکے ہیں لیکن ان کے استعمال کے لیے بہرحال آپ کو اس کے بہت قریب بیٹھنا پڑتا ہے۔اس مسئلے کے حل کے لیے ایک خوبصورت پیڈرون رنگ(Padron Ring) یعنی  پہننے کے قابل انگوٹھی نما ماؤس  تیار کیا گیا ہے۔اسے پہن کر کے آپ  صرف اپنی انگلی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے کمپیوٹر کو آسانی سے کنٹرول کرسکتے ہیں۔یعنی یہ پیڈرون رنگ انسانی ہاتھ کو وائرلیس ماؤس میں بدل دیتا ہے۔