تہ افلاک ہی سب کچھ نہیں ہے

تہ افلاک ہی سب کچھ نہیں ہے
زمیں کی خاک ہی سب کچھ نہیں ہے


کئی سچائیاں ہیں ماورا بھی
حد ادراک ہی سب کچھ نہیں ہے


دل و جاں کی بھی نسبت ہے جنوں سے
قبائے چاک ہی سب کچھ نہیں ہے


یہ گل بوٹے بہت دل کش ہیں لیکن
سر پوشاک ہی سب کچھ نہیں ہے


ابھی ہے ابتدا مشق ستم کی
لب سفاک ہی سب کچھ نہیں ہے