افسانہ

کوکون

اے اے میری کچھ نہیں تھیں۔ نہ ماں، نہ رشتے دار۔ وہ بس میری ماں کی سہیلی تھیں۔ یہ دونوں کسی اور شہر میں (میرے پیداہونے سے بہت پہلے) پاس پاس کے گھروں میں رہتی تھیں۔ میں کچھ ہی مہینے کا تھا تو میرے باپ نے، نہ معلوم کیوں، میری ماں کو مار ڈالا۔ (میرے باپ کا نام اے اے نے بہت دنوں تک مجھے ...

مزید پڑھیے

باسودے کی مریم

مریم کے خیال میں ساری دنیا میں بس تین ہی شہر تھے۔ مکہ، مدینہ اور گنج باسودہ۔ مگر یہ تین تو ہمارا آپ کا حساب ہے، مریم کے حساب سے مکہ، مدینہ ایک ہی شہر تھا۔ ’’اپنے حجور کا شہر۔‘‘ مکے مدینے سریپ میں ان کے حجور تھے اور گنج باسودے میں اُن کا ممدو۔ ممدو اُن کا چھوٹا بیٹا تھا۔ اس کے ...

مزید پڑھیے

ایک بے خوف آدمی کے بارے میں

کشور خان چنگلی وال میرا ساتھی ہے۔ ہم دونوں بندرگاہ پر کام کرتے تھے۔ ہم دونوں ہی شہروں کی اس تھکی ماندی دلہن۔۔۔ کراچی۔۔۔ کے گرفتار ہیں۔ دونوں اپنی اپنی زادبوم سے آکر یہاں بس گئے اور اس خوب صورت، بدصورت، مشکل، من موہنے، سفاک اور چہیتے اور جادو بھرے شہر کے دامِ محبت میں اس طرح ...

مزید پڑھیے

نصیبوں والیاں

صحّت کے سلسلے میں بہت سوں کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔۔۔ کچھ کے نہیں بھی ہوتے۔ ممّند ریاض کا یہ تھا کہ سویرے جلدی اُٹھنے والا بندہ تھا۔ روز وہ میونسپل پارک میں شبنم سے بھیگی گھاس پہ ننگے پاؤں ٹہل ضرور لگاتا تھا۔ کہتا تھا اس سے آنکھوں کی ’’روشنیائی‘‘ بہتر ہوتی ہے۔ خبر نہیں اس بہتر ...

مزید پڑھیے

شہر کوفے کا ایک آدمی

ایک ایسے آدمی کا تصور کیجیئے جس نے کوفے سے امامؓ کو خط لکھا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ دارالحکومت میں تشریف لایئے حق کا ساتھ دینے والے آپ کے ساتھ ہیں۔ وہ آدمی اپنے وجود کی پوری سچائی کے ساتھ اس بات پر ایمان بھی رکھتا ہو، لیکن خط لکھنے کے بعد وہ گھر جا کر سو گیا۔ جب دس ہزار دنیا ...

مزید پڑھیے

زنان مصر اور زلیخا

’’یوسف اور زلیخا کی کہانی مذہبی کتابوں میں رمز اور کنائے میں بیان ہوئی ہے لیکن بہت سے شاعروں اور ادیبوں نے اس قصہ کو کہانی کی صورت میں نظم و نثر میں لکھا ہے مگر وہ سب چیزیں مرد کے نقطۂ نظر کی ترجمان ہیں جس میں ہر چیز کا الزام کار عورت پر عائد کیا جاتا ہے۔ اس کہانی میں ان رمز و ...

مزید پڑھیے

مریض

’’خدا ایک حققت مطلق ہے اور ’’مطلقیت‘‘ کے لحاظ سے عبا و صواب کا تصور لایینے ہے۔ ‘‘بھلائی‘‘ اور ’’برائی‘‘ محض اضافی لفظ ہںا۔ مگر انسانتا کے لےک خدا اور کائنات کی اضافی حتائ ہی حققت کبریٰ ہے کوےنکہ ہم عرش کی سطح سے نہںا دیکھ سکتے اور خداکی طرح ’’محسوس‘‘ کرنے سے قاصر ہں ...

مزید پڑھیے

ایک درخت کا قتل

ایک کوارٹر کے پہلو میں ایک بہت ہی اونچا، مضبوط، گھنیرا اور خوب صورت درخت تھا۔ شہر کے مشہور باغ کو بڑی بد سلیقگی سے کاٹ کاٹ کر بے ربط، بد وضع کوارٹر کھڑے کر دیے گئے تھے۔ بے ہنگم، نہ ناک درست نہ نقشہ۔ صرف ایک کوارٹر اسی چھتنار اور بلند و بالا درخت کی وجہ سے بہت بھلا لگتا تھا۔ ہرا ...

مزید پڑھیے

شادی کے تحفے

اس کا مجھ سے پردہ تو نہیں تھا مگر میرے اور ثروت کے درمیان حجاب حائل تھا۔ گہرا حجاب۔ اس کی شادی ہونے والی تھی۔ اس بات نے شرم میں اور اضافہ کر دیا تھا، جیسے جھاڑیوں کے درمیان ہرن چھپ جائے اور پھر نمودار ہو، اسی طرح وہ سائبان میں چلتی پھرتی ہوئی، پایوں کی آڑ میں مجھے دیکھ کر روپوش ...

مزید پڑھیے

انار کلی اور بھول بھلیاں

اس نے ایک خواب دیکھا۔ رات بہت دیر تک جاگتا رہا تھا۔ رسالہ کا چھوٹا سا دفتر، بس ایک چھوٹی سی کوٹھری، اس میں ایک دروازہ، جو بڑے بے ربط سے ہال میں کھلتا تھا، اور ایک دریچہ جس سے گلی کا ایک حصہ دکھائی دیتا تھا۔ گلی کے اس جانب چھوٹی چھوٹی اینٹوں کی ایک بے حس، بیگانہ دیوار، ماضی کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 214 سے 233