افسانہ

کواڑ کی اوٹ سے

چلتی ہوئی سڑک کی جنوبی جانب ایک چھوٹی سی دکان سے ملحق فٹ پاتھ پر مرمت طلب سائیکلوں کے پیوظں اور سلاخوں کے متوازی دائرے، خطوط اور مکڑی کے جالوں کی سی کمانیاں رہرووں کی نگاہوں کو الجھا لیتیں تھیں۔ دکان کے اندر چھت سے لٹکی ہوئی کوئی سائیکل ہوتی۔ اسی پر ایک پست قد چند لا دکاندار ...

مزید پڑھیے

سیمنٹ

’’وہ لیٹی لیٹی نہ جانے کیا کیا سوچتی رہتی تھی۔ لڑکپن سے وہ بہت اور بہت کچھ سوچنے کی عادی تھی۔ و ہ خیال ہی خیال میں سفر کیا کرتی تھی۔ ہوا کے گھوڑے دوڑاتی، ہوائی قلعے بناتی اور کبھی سات سمندر پار کی شہزادی بنتی، مگر وہ سوچتے رہنے والی لڑکی نہ تھی بلکہ ساتھ ہی نہایت چونچال اور مجلس ...

مزید پڑھیے

سپنوں کے دیس میں

میں ایک کہانی لکھنے لگا ہوں۔ کہانی اس لئے کہہ رہا ہوں کہ کہانی کہنے سے، اپنے آپ اور اپنے ماحول کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے یا کم از کم مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دھندلکے صاف ہو ر ہے ہیں، لکیریں ابھر رہی ہیں، ہیولے صورتیں اختیار کر رہے ہیں اور صورتیں جہت در جہت ناچتی ہوئی کیفیتوں ...

مزید پڑھیے

کلیاں اور کانٹے

وہ تعداد میں نو تھیں۔ گوری، سانولی، گوارا اور ناگوار، بعض ان میں دل کش کہی جا سکتی تھیں مگر خوب صورت کوئی نہیں۔ سورج اسی طرف سے طلوع ہوتا تھا جس طرف سے وہ اپنی سفید ساریوں میں ملبوس طیور صبح کے چہچہوں کے ساتھ باکس اور ڈورینڈا کی جھاڑیوں کی اوٹ سے نکلتی دکھائی دیتی تھیں۔ ہر صبح ...

مزید پڑھیے

چپ شاہ

ننگ دھڑنگ، وہ سارے شہر میں گھومتے رہتے تھے، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کون تھے اور کہاں سے آئے تھے۔ ان کے بارے میں ہر شخص ایک الگ کہانی بیان کرتا تھا۔ کوئی وہی روایتی کہانی سناتا کہ وہ ایک قبائلی سردارکے بیٹے تھے۔ کسی دوسرے قبیلے کے سردار کی بیٹی سے انہیں عشق ہو گیا تھا لیکن ان ...

مزید پڑھیے

میلہ گھومنی

کانوں کی سنی نہیں کہتا آنکھوں کی دیکھی کہتا ہوں۔ کسی بدیسی واقعے کا بیان نہیں اپنے ہی دیس کی داستان ہے۔ گاؤں گھر کی بات ہے۔ جھوٹ سچ کا الزام جس کے سر پر چاہے رکھیے۔ مجھے کہانی کہنا ہے اور آپ کو سننا۔ دو بھائی تھے چنو اور منو نام۔ کہلاتے تھے پٹھان۔ مگر نا نہال جولاہے ٹولی میں تھا ...

مزید پڑھیے

گاؤں کی لاج

۱۹۲۷ء کی بات ہے کہ لکھن پور میں دو زمیندار رہتے تھے۔ ایک کا نام تھا امراؤ سنگھ، دوسرے کا دلدار خاں۔ دونوں بدیشی راج کے خطاب یافتہ تھے۔ امراؤسنگھ کو انگریزوں نے رائے صاحب بناکر نوازا تھا اور دلدار خاں کو خاں صاحبی دے کر ممتاز کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک میان میں دو تلوار، ایک مملکت ...

مزید پڑھیے

ایک ماں کے دو بچے

کلکتے میں جو وہائٹ وے لیڈلا کی دکان ہے، اس میں ایک شریف مسلمان ترکی ٹوپی پہنے اور ڈھیلی ڈھالی شیروانی زیب تن کئے ایک بنڈل ہاتھ میں لئے دروازے کے پاس کھڑے سڑک پر گھبرائی ہوئی نظریں ڈال رہے تھے۔ اپریل کا مہینہ تھا اور وہ زمانہ، جب ہر جاہل ہندومسلمان خواہ مخواہ ایک دوسرے کے خون کا ...

مزید پڑھیے

لاٹھی پوجا

ہریا لاٹھی پر ٹیک لگائے آم کے باغ میں کھڑی تھی۔ چار بج چکے تھے۔ مگر اب تک لو چل رہی تھی۔ دھوپ ہریا کے کندنی رنگ کو تپاکر گلابی بنا رہی تھی۔ جسم میں شعلے سے لپٹتے محسوس ہوتے۔ کھیتوں میں سے ایک سیاہی مائل لہر سی اٹھتی اور باغ کی طرف دوڑتی دکھائی دیتی۔ ہوا کہ ان جھونکوں سے باغ کی ...

مزید پڑھیے

بدلہ

پلیٹ فارم کا شور، گاڑی کی گھڑگھڑاہٹ۔ انجن کی بھک بھک۔ ’’قلی! قلی!‘‘ ’’اے بکس اس برتھ پر رکھو، بستر اس سیٹ پر۔‘‘ ’’شالا بیٹا دو آنہ مزدوری کم بتاتا ہے۔‘‘ ’’ام ایک آنہ سے زیادہ نہ دیگا امارا ملک میں ایک آنہ کا اخروٹ بہت ملتا ہے، بہت!‘‘ ’’میں کہتا اوں بالکل اندا اوگیا۔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 215 سے 233