افسانہ

یہ رشتہ و پیوند

اردو کی کلاس جاری تھی۔ پہلی قطار میں پانچ دمینتی روپ لڑکیاں اور باقی کرسیوں پر چھبیس جگت رنگ لڑکے بیٹھے تھے۔ پروفیسر صمدانی نے دیوانِ غالب میں بائیں ہاتھ کی انگشت شہادت نشانی کے طور پر پھنسائی اور گرج دار آواز میں بولا، ’’مس سرتاج سبک سرکے کیا معنی ہیں؟‘‘ جب سے سرتاج نے بی ...

مزید پڑھیے

توبہ شکن

بی بی رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔ آنسو بے روک ٹوک گالوں پر نکل کھڑے ہوئے تھے، ”مجھے کوئی خوشی راس نہیں آتی۔ میرا نصیب ہی ایسا ہے۔ جو خوشی ملتی ہے، ایسی ملتی ہے کہ گویا کوکا کولا کی بوتل میں ریت ملا دی ہو کسی نے۔“ بی بی کی آنکھیں سرخ ساٹن کی طرح چمک رہی تھیں اور سانسوں میں دمے کے ...

مزید پڑھیے

ہزار پایہ

گاڑی دھچکا کھا کر رکی لیکن اگر گاڑی یوں نہ بھی رکتی تو بھی میں جاگ پڑتی کیوں کہ بڑی دیر سے مجھے لگ رہا تھا کوئی کنکھجورا میری گردن پر ہولے ہولے رینگ رہا ہے۔ ابھی وہ میرے منہ پرآ جائے گا اور اپنے سوئیوں ایسے پاؤں میری آنکھوں میں گاڑ دے گا۔ باہر پھیکی چاندنی میں ایک کالا بدہیئت ...

مزید پڑھیے

نیو ورلڈ آرڈر

ڈرائینگ روم کا دروازہ کھلا تھا۔ طاہرہ گیلری میں کھڑی تھی۔ یہاں ان ڈور پلانٹ، دیواروں کے ساتھ سجے تھے۔ فرش پر ایرانی قالین کے ٹکڑے تھے۔ دیوار پر آرائشی آئینہ نصب تھا۔ لمحہ بھر کو اس آئینے میں طاہرہ نے جھانک کر دیکھا۔ اپنے بال درست کئے اور کھلے دروازے سے ڈرائینگ روم میں نظر ...

مزید پڑھیے

آخری کمپوزیشن

(تیسری دنیا کے دانشوروں کے نام) اس کے لفظ چھین لو اور اسے چھوڑ دو۔ یہ مجھے منظور نہ تھا اور نہ ہے۔ گزرے ہوئے کل اور آنے والے کل کا یہ درمیانی لمحہ، جسے میرا ایک رفیق آج کہتا ہے، چھ ضرب چھ کا ایک ننگا بچا سرد کمرہ ہے، جس کی تین دیوار یں پتھر کی ہیں اور چوتھی لوہے کی۔ جگ بیتے، ...

مزید پڑھیے

وہ

جب اس کی آنکھ کھلی، وہ وقت سے بے خبر تھا۔ اس نے دایاں ہاتھ بڑھا کر بیڈ ٹیبل سے سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا اور سگریٹ نکال کر لبوں میں تھام لیا۔ سگریٹ کا پیکٹ پھینک کر اس نے پھر ہاتھ بڑھایا اور ماچس تلاش کی۔ ماچس خالی تھی۔ اس نے خالی ماچس کمرے میں اچھال دی۔ خالی ماچس چھت سے ٹکرائی ...

مزید پڑھیے

ساحل کی ذلت

(گلزار اور بھوشن بن مالی کے لئے) میں نے کہا تھا، اس نے کہا تھا۔۔۔ کس نے کہا تھا، یہ سکّوں کا شہر ہے، یہاں گلیوں میں چاندی بہتی ہے۔ میں نے سنا تھا اور اس نے بھی سنا تھا لیکن کس نے کہا تھا؟ اگر میں نے کہا تھا تو اس نے سنا تھا اور میں نے بھی۔ اگر اس نے کہا تھا تو میں نے سنا تھا اور اس ...

مزید پڑھیے

آتما رام

’’عمر بھر جینے کے لئے مرتے رہے اور جب مرے تو ایسی ذلت کی موت۔۔۔ آدمی کی اس سے بڑی توہین اور کیا ہو سکتی ہے۔‘‘ انسپکٹر بخشی کی تسلی بھری باتوں کا جواب بلدیو نے اس ایک جملے میں دیا اور کوتوالی سے باہر آ گیا۔ چاندنی چوک میں وہی ریل پیل تھی، وہی شور و غل تھا جس سے بلدیو مانوس تھا ...

مزید پڑھیے

کمپوزیشن چار

(براہ کرم افسانہ کسی خاموش جگہ، قدرے اونچی آواز میں پڑھئے) میں ادھر مغرب کی جانب ہوں۔ میری نظروں کے دائرے کو بیچو بیچ چیرتی ہوئی لکیر سی سڑک کے بائیں کونے سے چمکیلے رنگ کی کار داخل ہو رہی ہے۔۔۔ ادھر ویران مشرق کی جانب سے دو اجنبی ایک دوسرے سے بے خبر، کافی فاصلے سے آگے پیچھے، ...

مزید پڑھیے

جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے

حضور! مجھے اس فضول و بے معنی سلسلے میں واقعی کچھ کہنا ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ مرجاؤں گا اور یوں دنیا سے رشتہ ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔مگر ایسا نہ ہوا اور اتفاقاً مجھے اپنی بات کہنے کا موقع مل گیا۔ جی ہاں، میں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے۔میں اس الزام کو بخوشی قبول کرتا ہوں۔۔۔میں سمجھتا ہوں، ...

مزید پڑھیے
صفحہ 204 سے 233