افسانہ

ہندوستاں ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا اقبال جگجیت سنگھ اپنی بیوی کی تلاش میں تھا۔ بھلا اتنے بڑے جوڑ میلے میں ایک عورت کو ڈھونڈ نکالنا بھی کوئی آسان کام تھا۔ سکھوں کا جوڑ میلہ ایک برس میں ایک ہی مرتبہ لگتا تھا۔ گورو ارجن دیوجی مہاراج کی یاد میں بڑے بڑے دیوان لگتے۔ پنجاب کے دور ...

مزید پڑھیے

تین باتیں

ردیل سنگھ گوردوارہ ڈیرہ صاحب کے صحن میں سویا ہوتا تو اسے منہ اندھیرے ہی جاگنا پڑتا۔ چونکہ گوردوارے میں صبح ہی صبح شبدکیرتن شروع ہو جاتا تھا اور صحن کی صفائی کے لیے مسافروں کو جگانا پڑتا تھا، اس لیے چھت پر دیر تک سویا رہا۔ یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور تیز دھوپ میں شیر پنجاب ...

مزید پڑھیے

دیش بھگت

شام ہوچکی تھی۔ میں چھوٹے بھائی کو چٹھی لکھ رہا تھا کہ اتنے میں چچا اندر داخل ہوئے، بغیر کسی تمہید کے بولے، ’’سنو! آج ذرا خاص کام ہے۔ تم کو میرے ساتھ چلنا ہوگا۔‘‘ ’خاص کام‘ والے الفاظ سن کر میں نے سرہانے سے صفا(۱) جنگ اٹھائی اور اسے فرش پر ٹیک اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’مسلمانوں کا محلہ ...

مزید پڑھیے

راستہ چلتی عورت

یہ کوئی شعلہ نہیں تھا، بلکہ بوٹا سنگھ کی نئی نویلی بیر بہوٹی سی دلہن کے سرخ دوپٹے کا آنچل تھا، جو تیز گرم ہوا کے جھونکوں میں پھڑپھڑا رہا تھا۔ اب وہ کوٹ گوراں نام کے گاؤں کے قریب پہنچ چکے تھے، شادی کے بعد پہلی بار بوٹا سنگھ بیوی کو اس کے میکے سے اپنے گاؤں کو لے جا رہا تھا۔ تقریباً ...

مزید پڑھیے

جگا

ماجھاکے علاقے میں بھیکن ایک چھوٹا ساغیر معروف گاؤں تھا۔ مشکل سے سو گھرہوں گے۔زیادہ تر سکھوں کی آبادی تھی مگریہاں ایک بات تھی، وہ یہ کہ بعض اوقات کوئی غیر معمولی خاص حسین لڑکی وجود میں آتی جس کے ساتھ کسی نوجوان مرد کے عشق کی داستان اس قدررومان پرور ہوتی کہ سسّی پنو،، سوہنی ...

مزید پڑھیے

پہلا پتھر

تب شاستری اور فریسی ایک عورت کو لائے جو بدکاری میں پکڑی گئی تھی، اور اس کو بیچ میں کھڑا کر کے کہا، اے استاد! یہ عورت بدکاری کرتی ہوئی پکڑی گئی ہے۔ موسیٰ کے قانون کے مطابق ایسی عورت کو سنگسار کرنا جائز ہے۔ سو تو اس عورت کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ جب وہ اس سے پوچھتے رہے تو اس نے ...

مزید پڑھیے

انتر ہوت اداسی

پھر تیسری بار ایسے ہوا۔ اس سے پہلے بھی دوبار اور ایسے ہوا تھا۔۔۔ بالکل ایسے۔ جب میرا بایاں پاؤں بانس کی سیڑھی کے آخری ڈنڈے پر تھا اور میرا دایاں پیر صحن کی کچی مٹی سے چھ انچ اونچا تھا تو پیچھے سے ماں نے میرے بال ایسے پکڑے جیسے نئے نئے چوزے پر چیل جھپٹتی ہے۔ میرا توازن بری طرح بگڑا ...

مزید پڑھیے

بہوا

بہوا کے جانے کے تیسرے دن بھیا کی نئی نویلی دلہن بھی میکے چلی گئی۔ اب حقیقت تو خدا کو یا بہوا کو بہتر معلوم ہے لیکن اس کے اچانک چلے جانے سے ہمارے گھر میں عجب قسم کی خاموشی چھا گئی ہے۔ بھیا اپنا فٹ بھر لمبا سگار لے کر لان میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر کسی سے کچھ نہیں کہتے۔ حتی کہ ان کے ...

مزید پڑھیے

ذات کا محاسبہ

کھلی گٹھری کی طرح وہ بکھرا رہتا تھا۔ اس نےکئی راتیں ہمسائے کے چھنارے درخت کو کھڑکی میں سے دیکھ کر گزاری تھیں۔ ذی شان کواس درخت کے پتے ڈالیاں چاندنی راتوں میں خاموش چمک کے ساتھ بہت پراسرار وحدت لگتی تھیں۔ وہ سوچتا کہ اتنے سارے پتوں کے باوجود درخت کی اکائی کیسے قائم رہتی ہے۔ اگر ...

مزید پڑھیے

چھمو

میں نے اسے پہلی بار بیگم صاحبہ کے ساتھ ہی دیکھا تھااور بیگم صاحبہ سےمیری ملاقات ایک دن اتفاقاً ہوگئی تھی۔ رات کا وقت تھا۔ ہم سب سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ گرمیوں میں یہ تیاریاں بڑی طول طویل ہوتی ہیں۔ بستر باہر نکالے جاتے ہیں۔ گھڑوں میں پانی بھرا جاتا ہے۔ پنکھوں کی تلاش ہوتی ہے۔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 203 سے 233