افسانہ

ترقی کا ابلیسی ناچ

آج سے چند روز پہلے کی بات ہے، میں ایک الیکٹرونکس کی شاپ پر بیٹھا تھا تو وہاں ایک نوجوان لڑکی آئی۔ وہ کسی ٹیپ ریکارڈر کی تلاش میں تھی۔ دکاندار نے اسے بہت اعلی درجے کے نئے نویلے ٹیپ ریکارڈر دکھائے لیکن وہ کہنے لگی مجھے وہ مخصوص قسم کا مخصوص Made کا مخصوص نمبر والا ٹیپ ریکارڈر چاہئے۔ ...

مزید پڑھیے

پانی کی لڑائی اور سندیلے کی طوائفیں

ہم اہلِ ’’زاویہ“ کی طرف سے آپ سب کی خدمت میں سلام پہنچے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جب ہم میز کے گرد جمع ہو رہے تھے تو ہم دریاؤں، پانیوں اور بادلوں کی بات کر رہے تھے اور ہمارے وجود کا سارا اندرونی حصہ جو تھا وہ پانی میں بھیگا ہوا تھا اور ہم اپنے اپنے طور پر دریاؤں کے منبعے ذہنی طور پر ...

مزید پڑھیے

گڈریا

یہ سردیوں کی ایک یخ بستہ اور طویل رات کی بات ہے۔ میں اپنے گرم گرم بستر میں سر ڈھانپے گہری نیند سو رہا تھا کہ کسی نے زور سے جھنجھوڑ کر مجھے جگا دیا۔ ’’کون ہے۔‘‘ میں نے چیخ کر پوچھا اور اس کے جواب میں ایک بڑا سا ہاتھ میرے سر سے ٹکرایا اور گھپ اندھیرے سے آواز آئی، ’’تھانے والوں ...

مزید پڑھیے

پنجاب کا دوپٹہ

جب آدمی میری عمر کو پہنچتا ہے تو وہ اپنی وراثت آنے والی نسل کو دے کر جانے کی کو شش کرتا ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جو انسان بد قسمتی سے ساتھ ہی سمیٹ کر لے جاتا ہے۔ مجھے اپنی جوانی کے واقعات اور اس سے پہلے کی زندگی کے حالات مختلف ٹکڑیوں میں ملتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اب وہ آپ کے ...

مزید پڑھیے

شہر جو کھوئے گئے

کوئی جو مجھ سا ہو اور مجھ پر بس ترس نہ کھائے کہ میں بالآخر اس قوم سے ہوں جس کی دانش وری اس کے ساتھ مرجائے گی۔ (لوئی زوکو فسکی) زمین کے اندر سے ایک شہر نکلا۔ اتفاقاً کوئی کدال جا ٹکرایا اور زمین کے سینے میں سے، ریت کی تہوں میں چھپی ہوئی دیواریں، برابر چنی ہوئی اینٹوں کی ...

مزید پڑھیے

اسپائڈر مین

ایک بار پھر وہ شہر میں کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑ رہا ہے، زندگی کے قد سے بھی بڑا پراسرار، سرخ و نیلگوں نقاب میں اپنے جالے تانتے ہوئے جالوں کے الجھاوں میں اس طرح سے گزرتے ہوئے جیسے اس شہر کا آسمان بھی بس ایک دیوار ہو جس پر وہ سیدھا چلتا چلا آئے۔ وہ بند گلیوں کھردری، سنگلاخ ...

مزید پڑھیے

کہر

اسے کسی نے نہیں بلایا۔ وہ پھر بھی آگئی۔ دروازہ کھلتے ہی اندر گھسنے لگی۔ دروازہ کھلنے سے بھی پہلے، دروازے میں چابی کے سوراخ سے دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ وہ گھر کے باہر والے برآمدے میں ٹھہری ہوئی ہے۔ رکی ہوئی ہے اور انتظار کر رہی ہے۔ انتظار کر رہی ہے کہ دروازہ کھلے اور وہ اندر آجائے، ...

مزید پڑھیے

اوپر والیاں

شام کا وقت بخار کا وقت تھا۔ اب یہ بچوں والی بات ہوکر رہ گئی تھی کہ شامیں وہ شامیں نہ رہی تھیں۔ ان کا سہانا پن رخصت ہو چکا تھا۔ یہ نہیں کہ چڑیوں کا بھرا مارکر اڑنا، پیڑ میں جمع ہو کر شور مچانا اور ٹھنڈی خنک چھاؤں کا پیڑ سے لپٹ کر زمین پر پھیلنا ختم ہو چکا تھا۔ یہ سب بھی تھا اور اس کے ...

مزید پڑھیے

ناقۃ اللہ

’’چنانچہ ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی کا صریح معجزہ دیا، پھر بھی انہوں نے نہ مانا اور اسے ستایا یہاں تک کہ اس کو ہلاک کردیا۔۔۔‘‘ القرآن ۱۷/۱۵۔۔۔ ۵۹ اونٹنی کھلا معجزہ تھی۔ آؤ تم سے بہت عمدہ قصہ بیان کریں کہ اس سے پہلے تم اس سے بے خبر تھے۔ کندھوں پر اس نے چادر لپیٹی اور بستی والوں کو ...

مزید پڑھیے

ستارہ غیب

میز پر بساط بچھی ہوئی تھی، ہم چاروں اس کے گرد جمع تھے اور بازی شروع ہونے والی تھی۔ یہ ہمارا روزانہ کا معمول تھا۔ ہم رات کے وقت کھیلتے تھے، کیوں کہ دن میں اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی ہوتی تھیں۔ اپنا دن ہمیں دنیا کو دینا پڑتا تھا تب کہیں جا کر رات آزاد ملتی تھی کہ اپنی اندرونی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 205 سے 233