افسانہ

گرنتھی

’’ست نام۔‘‘ یہ الفاظ حسب معمول گرنتھی جی کے منہ سے نکلے اور ان کے قدم رک گئے۔ لیکن ان کے کچھے کا لٹکتا ہوا ازاربند گھٹنوں کے قریب جھولتا رہا۔ ’’گرنتھی جی! تم کو سومرتبہ کہا ہے کہ یوں دندناتے ہوئے اندر نہ بڑھے آیا کرو۔ ذرا پرے کھڑے رہا کرو۔ کسی وقت آدمی نامعلوم کیسی حالت میں ...

مزید پڑھیے

سزا

یہ کہانی پنجاب کے ایک گاؤں سے وابستہ ہے۔ چھوٹا سا گاؤں تھا۔ دو ایک حویلیوں کو چھوڑ کر باقی تمام مکانات گارے کے بنے ہوئے تھے۔ وہی جوہڑ، وہی ببول، شرینہہ اور بیریوں کے درخت، وہی گھنے پیپل کے تلے روں روں کرتے ہوئے رہٹ، وہی صبح کے وقت کنوؤں پرکنواریوں کے جمگھٹ، دوپہر کے وقت بڑے ...

مزید پڑھیے

کٹھن ڈگریا

رکھی رام دکان سے واپس آ رہاتھا۔ صورت سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس وقت کوئی مزےدار بات سوچ رہا ہے۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ چلتے چلتے جب اسے سگریٹ جلانے کی خواہش محسوس ہوئی تو اسے خیال آیا کہ ماچس تو دکان پرہی رہ گئی ہے۔ خیر کوئی مضائقہ نہیں۔ اب وہ گھر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ وہ ...

مزید پڑھیے

تیسرا سگریٹ

جب دیو راج نے دیکھا کہ سب ہمہ تن گوش بنے بیٹھے ہیں تو اس نے منہ قدرے اوپر کو اٹھا کر سگریٹ کا دھواں ایک فرّاٹے کے ساتھ چھوڑنا شروع کیا۔۔۔ اور ہم اس کے گول منہ میں سے دھواں تیزی سے نکلتے اور فضا میں تحلیل ہوتے دیکھتے رہے۔۔۔ یہ اس کی مخصوص عادت تھی کہ بات شروع کی اور جب دوست متوجہ ...

مزید پڑھیے

باندھ

شام اونگھ رہی تھی۔ وقت زیادہ نہیں ہوا تھا، لیکن آکاش میں دفعتاً کالی گھٹا چھا جانے سے گہری شام کا دھوکا ہونے لگا تھا۔ وسیع گھٹا دبے پاؤں آئی اور پھر نیلے آکاش پر اپنے گہرے مٹیالے رنگ کا پلستر کر دیا۔ یہ گھٹا اپنی جھولی میں ہوا کا ایک جھونکا تک نہیں لائی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ...

مزید پڑھیے

آبشار

اگر کبھی دہرہ دون جانے کا اتفاق ہو تو آپ کا میزبان آپ کو سنسل دھارا نامی مقام دیکھنے کی دعوت ضرور دے گا اور آپ انکار ہر گز نہ کیجئے گا۔ سنا ہے کہ اب وہاں بسیں جانے لگی ہیں، لیکن پہلے دہرہ دون سے راجپور قصبے تک کوئی آٹھ میل کا سفر لاری میں طے کر پڑتا تھا اور سنسل دھارا تک پہنچنے کے ...

مزید پڑھیے

لمحے

سوم کا دن تھا۔ یوں تو میں اپنے دوستوں کی بہت قدر کرتا ہوں لیکن کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ دوستوں کی صورت تک نہ دکھائی دے اورمیں محض اپے لیے ہی ہوکر رہ جاؤں۔ میرے دوستوں کی تعداد بہت کم ہے، اس لیے مجھے ایسے دن بھی میسر آجاتے ہیں۔ جس روز کا میں ذکر کر رہا ہوں، وہ اسی قسم کا دن تھا۔ صبح ...

مزید پڑھیے

تعویذ

’’چار نمبر صاحب دو روپے مانگتے ہیں۔‘‘ بیرے کا مطلب یہ تھا کہ جو صاحب کمرہ نمبر 4 میں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ دو روپے طلب کرتے ہیں۔ مجھے تعجب ہوا اور غصہ بھی آیا کہ یہ شگوفہ کیسا؟ جو مسافر ہوٹل میں قیام پذیر ہو اس سے ہم روپیہ وصول کرنے کے عوض الٹا اسی کو اپنی گرہ سے روپے ادا کریں۔ میں ...

مزید پڑھیے

سورما سنگھ

پچھلی گرمیوں میں جب تفریح کے لیے پہاڑ پر گیا تو وہاں لوگوں کا غیر معمولی رش پایا۔ کوئی ہوٹل، کوئی مکان یا دھرم شالہ خالی نہ تھی۔ بہت دوڑ دھوپ کے بعد کہیں گوردوارے میں جگہ ملی۔ ایک معمولی سا کمرہ تھا اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا باورچی خانہ۔ گوردوارے میں تین روز تک تو مفت رہنے کی ...

مزید پڑھیے

پیپر ویٹ

وہ کتنا خوش تھا۔ آخر چھبیس برس کی عمر بھی کیا ہوتی ہے۔ اسے ترقی دے کر اب بنک کا منیجر بنا دیا گیا تھا۔ آہا! اس کی مسرت کا بھلا کیا ٹھکانہ تھا۔ وہ دفتر سے گھر اڑ کر پہنچا۔ جب وہ مدن مینشنز کے صحن میں داخل ہوا تو دفعتاً اس کے لبوں کی مسرت معدوم ہوگئی۔ اس کی بیوی آج پھر ڈرائنگ روم کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 202 سے 233