گرنتھی
’’ست نام۔‘‘ یہ الفاظ حسب معمول گرنتھی جی کے منہ سے نکلے اور ان کے قدم رک گئے۔ لیکن ان کے کچھے کا لٹکتا ہوا ازاربند گھٹنوں کے قریب جھولتا رہا۔ ’’گرنتھی جی! تم کو سومرتبہ کہا ہے کہ یوں دندناتے ہوئے اندر نہ بڑھے آیا کرو۔ ذرا پرے کھڑے رہا کرو۔ کسی وقت آدمی نامعلوم کیسی حالت میں ...