افسانہ

باغبان

ندی کے کنارے ایک چھوٹا سا باغ تھا۔ باغ کی سطح ذرا نیچی تھی، اور کبھی کبھی برسات میں ندی کا پانی باغ کے نشیبی حصوں میں پہنچ جاتا تھا۔ پاس ہی سے سڑک گزرتی تھی،جہاں سے باغ کامنظر قابل دید تھا۔ راہ گیر جاتے جاتے ضرور نظر بھر کر پھولوں کے تختے کو دیکھ لیتے اور بچے ندی کے پل پر بیٹھ کر ...

مزید پڑھیے

ڈبل لائف

آخر آج تم نے بے قرار ہوکر میرے گلے میں باہیں ڈال دیں! حیران ہوں کہ یہ تبدیلی کیوں؟ ذرا سوچو، دو برس پہلے کیسے گمان ہوسکتا تھا کہ تم اس طرح مجھ سے ملنے نئی دہلی کے اس ہوٹل میں آؤگی۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ ایک دفعہ جب میں نے تم سے کوالٹی میں آئس کریم کھانے کے لیے کہا تھا تو تم نے نہایت ...

مزید پڑھیے

بے کار دن، بے کار راتیں

ایک بیکار تو وہ ہوتے ہیں جن کی آنتیں بیکار ہوتی ہیں اور آنتیں اس لیے بیکار ہوتی ہیں کہ کھانا نہیں ملتا، اور کھانا اس لیے نہیں ملتا کہ ان کاتعلق اس طبقے سے ہوتاہے جس کو کھانے کے لیے محنت کرنا اور کمانا پڑتا ہے اور محنت اس لیے نہیں کرتے کہ یا کاہل ہوتے ہیں اور نہیں کرناچاہتے، یا ...

مزید پڑھیے

کہر زدہ شام

جب میرا پہلا رشتہ آیا تو میں تیرہ برس کی تھی۔ وہ لڑکا جس سے میرا رشتہ آیا تیس کے لگ بھگ تھا اور امپورٹ ایکسپورٹ کا دھندہ کرتا تھا۔ ادھر کا مال ادھر اورادھر کا ادھر۔ کوٹھیاں تھیں، کاریں تھیں، عزت تھی، شہرت تھی۔ بہت سے لوگ دن رات اسے سلام کرتے تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ سلام کرتا ...

مزید پڑھیے

کالے کوس

چھوٹا سا قافلہ، جو تین عورتوں اور ایک مرد پر مشتمل تھا، دم لینے کے لیے کنوئیں کے قریب ڈیرا ڈالے تھا۔ وہ لوگ مسلمان تھے۔۔۔ اور وہ دن اس سرزمین کو آزادی ملنے کے دن تھے جسے آج کل پاکستان اور ہندوستان کہتے ہیں۔ مرد، ۳۲ یا ۳۳ برس کا گرانڈیل شخص تھا۔ سر پر چھوٹی سی پگڑی کے دو چار بل۔۔۔ ...

مزید پڑھیے

علی! علی!

لگ بھگ پینتیس برس پہلے کا پنجاب۔۔۔ یہ اسی دو رکے پنجاب کی ایک سچی کہانی ہے۔ ان دنوں پنجاب کے دیہات میں بہت سی عام کہاوتوں میں سے ایک کہاوت یہ بھی تھی کہ مرد ہمیشہ شراب یا عورت کے باعث ہی پولیس کے چنگل میں پھنستا ہے۔ کم از کم ورسا سنگھ کے معاملے میں یہ کہاوت واقعی درست ثابت ...

مزید پڑھیے

بابا مہنگا سنگھ

ایک ہمارے ماموں صاحب ہیں کہ شہر میں کسی نہ کسی کام سے آتے رہتے ہیں۔ رات عموماً میرے ہاں ہی گزارتے ہیں اور جب رخصت ہونے لگتے ہیں تو مجھے اپنے ساتھ لے جانے پر اصرار کرتے ہیں۔ مجھے گاؤں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کھلی ہوا، دودھ دہی اور سیدھے سادے بھولے بھالے لوگوں سے مجھے کیا تعلق؟ میں ...

مزید پڑھیے

گمراہ

صبح کے وقت میں حجامت بنا رہا تھا۔ سامنے بڑا سا آئینہ، ہاتھ میں سیفٹی ریزر اور چہرے پر صابن کا جھاگ۔ کون نہیں جانتا کہ ایسے موقع پر چہرہ کیسی کیسی صورتیں اختیار کرتا ہے۔ معاً میرے منہ کا دہانہ ایک مخصوص انداز سے کھلا تو میرا سیفٹی ریزر والا ہاتھ ساکت ہوگیا۔ اپنے منہ کا واشگاف ...

مزید پڑھیے

کالی تتری

کالی تتری چری وچ بولے تیاڈدی نوں باج پے گیا بڑے مزے میں مولا نے چلم میں تمباکو اور اس کے اوپر سلگتے ہوئے اپلے کے دو ٹکڑے جمادئے۔ اور پھر مارے سردی کے دانت کٹکٹاتا ہوا چارپائی پر چڑھ ٹانگوں پر دھسہ مگن ہو گیا۔ روٹی کھانے کے بعد اسے حقے کی سخت طلب ہوتی تھی۔ چنانچہ اس نے آنکھیں ...

مزید پڑھیے

دودھ بھری گلیاں

شام کی سرمئی زلفیں آسمان کی بے کراں وسعتوں میں لہرا گئیں۔ وہ اپنے مکان سے باہر نکلا۔ اس نے تنگ و تاریک اور غلیظ گلی کی نانک شاہی اینٹوں کی بنی ہوئی اونچی دیواروں کے بیچ میں سے دم بدم چمک کھوتے ہوئے عمیق آسمان کی جانب دیکھا۔ آڑی ترچھی سرخ لکیرو ں کے باعث آسمان کا چوڑا سینہ تلواروں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 201 سے 233