افسانہ

مقتل

کئی بار میرے پاؤں پھسلے اور ہر بار یوں ہوا کہ میری پسلیوں کا جال کیلوں میں پھنس گیا، میری آنکھوں کے گہرے گڈھے کیلوں میں الجھ گئے اور میں ٹنگ گیا اور منہ کے بل زمین پر گرنے سے بچ گیا۔ اگر میں منہ کے بل زمین پر گر جاتا تو میری موت ہو جاتی۔ مجھے چھت پر پہنچنا تھا۔۔۔ چار آڑی ترچھی ...

مزید پڑھیے

بھاگوتی

بھاگوتی تھکی ماندی گھر پہنچی اور دھڑام سے چارپائی پر گر پڑی۔ دھن پتی دروازے کی جانب پشت کئے الماری میں سے کونین نکال رہی تھی۔ وہ غیر متوقع دھماکے کی آواز سن کر سہم گئی۔ گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ میں سے کونین کی شیشی پھسل کر فرش پر جا پڑی اور چکنا چور ہوگئی۔ شیشی کے ٹوٹنے کی آواز ...

مزید پڑھیے

شہر کی رات

ابھی اس نے سگریٹ سلگایا ہی تھا کہ بس آن دھمکی۔ سگریٹ لبوں میں دبا کر اس نے فٹ بورڈ پر قدم رکھا تو بس چل پڑی۔ جہازی بس خالی پڑی تھی۔ اور کنڈکٹر ڈرائیور کے پاس سے اگلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ کنڈکٹر اس کی جانب بڑھا تو اس نے ہپ پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر پینتیس نئے پیسوں کے سکے ...

مزید پڑھیے

ہوس کی اولاد

شادی کے قریب قریب گیارہ ماہ بعد ہمارے یہاں پہلا بچہ ہوا تھا اور کچھ دن بعد ہی راہی کا خط آیا تھا۔ خط آپ کے روبرو رکھنے سے پہلے میں راہی کے بارے میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ وہ میرا سب سے عزیز دوست ہے اور عجیب و غریب دوست ہے۔۔۔ خط یوں تھا، کرشن، میرے دوست۔ تو تم باپ بن گئے ہو۔ ...

مزید پڑھیے

کرفیو

خوفناک عفریت نے پھر زندگی کے بدن میں اپنے ناخن گاڑدیئے۔ زخموں سے خون ابلنے لگا۔ وہ سب وحشت زدہ جانوروں کی طرح سڑک پر نکل آئے۔ عمارتوں اورانسانوں کے اس جنگل میں غراتی پھرنے والی دیوہیکل جانوروں جیسی بسیں آگ اورپتھراؤ کے خوف سے جیسے غاروں میں جاچھپی تھیں۔ وہ سب بے بس ہوکراپنی ...

مزید پڑھیے

کھائی

برف کی سیلوں کے درمیان شوکت میاں کی نعش رکھی تھی۔ پنکھا تیزی سے چل رہا تھا۔ برف کے گھلنے سے پانی کی بوندیں فرش پر گر رہی تھیں۔ قرآن کی تلاوت کرتے کرتے کفایت علی نے اپنے باپ کی نعش کی طرف دیکھا وہ فیصلہ نہیں کرسکا کہ اسے اپنے باپ کے مرنے کا افسوس ہے بھی یا نہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ وہ ...

مزید پڑھیے

خس آتش سوار

سورج نکلنے میں دیر تھی۔ گرودیو نے آنکھیں موندے موندے سوچا وہ سب اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہو ں گے۔ دو گھنٹے بعد وہ میڈٹیشن ہال میں جمع ہو جائیں گے۔ آج انھیں لکچر دینا تھا۔ انھیں اس بات کا اچھی طرح احساس تھا کہ ان کے پاس ایسے الفاظ ہیں جو سننے والوں پر جادو کر دیتے ہیں۔ ان ...

مزید پڑھیے

اجنبی اجنبی

جہاں زمین سے قریب ہوتا جارہاتھا۔ اس کے وجود میں اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔ بس چند لمحے۔ چند لمحوں بعد اجنبیت کا بوجھ جو پچھلے چاربرسوں سے وہ اپنے کندھوں پراٹھائے پھر رہا ہے ‘اتار پھینکے گا۔ چار برس پہلے اس نے اپنی شناخت کھودی تھی اورپیسہ ڈھالنے کی مشین بن گیاتھا۔ اجنبی چہرے ...

مزید پڑھیے

چکرویو

دھرت راشٹر نے پوچھا۔ ’’اے سنجے مجھے بتاؤ اتنے سارے لوگ اپنے اپنے ہاتھوں میں ہتھیار اُٹھائے اس سرزمین پر کیا کررہے ہیں؟‘‘ سنجے جواب دیا۔ ’’اے دھرت راشٹر۔ وہ لوگ ایک جاتی کو نشٹ کر دینا چاہتے ہیں۔ انھیں صفحۂ ہستی سے مٹادینا چاہتے ہیں‘‘۔ ’’کیا ایسا ممکن ہے سنجے ۔۔۔ کیا ایسا ...

مزید پڑھیے

سانسوں کے درمیان

وہ عجیب سی ذہنی حالت میں جی رہا تھا۔ ایسی حالت جس میں وہ معمول کے مطابق ہر عمل کررہا تھا لیکن وہ عمل اس کی یادداشت کا حصہ نہیں بن رہا تھا۔ خواب خواب کیفیت ، جیسے بہت زیادہ نشے میں ہو سب کچھ یاد رہتا ہے لیکن کہیں کہیں درمیانی کڑیاں غائب ہوجاتی ہیں۔ سب کچھ نظر آتا ہے لیکن دھندلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 196 سے 233