افسانہ

ادّھا

سب اسے ’’ادّھا‘‘ کہہ کے بلاتے تھے۔ پورا کیا، پونا کیا،بس ادّھا۔ قد کا بونا جو تھا۔ پتا نہیں کس نے نام رکھا تھا۔ ماں باپ ہوتے تو ان سے پوچھتا۔جب سے ہوش سنبھالا تھا، یہی نام سنا تھا اور یہ بھی نہیں کہ کبھی کوئی تکلیف ہوئی ہو۔ دل دُ کھا ہو۔ کچھ نہیں۔ ہر وقت اپنی مستی میں رہتا ...

مزید پڑھیے

سانجھ

لالہ جی کو یہ بات کھل گئی کہ بڑھیا(لالائن) نے بال کٹوا دئیے۔ اور ان سے پوچھا بھی نہیں۔ پچھلے مہینے ان کی بہو مائیکے گئی تھی تو اپنی ساس کو ساتھ لے گئی تھی، دلی۔ کہ ٹرین میں گود کے بچے کو سنبھالنے میں آسانی رہے گی۔ لالہ جی سے خود مایا دیوی نے پوچھا تھا ’’بہوکہہ رہی ہے دلی چلنے کے ...

مزید پڑھیے

مسکراہٹ کا عکس

روشنی کا استعارہ کر لیا دل نے ہر آنسو ستارہ کر لیا ایک بہت بڑے فریم میں ابا جی کی ایک بڑے سائز کی تصویر لگا کے میں نے فریم کو اپنے ڈرائینگ روم میں آویزاں کر رکھاہے۔گھر کے باقی کمروں میں بھی ان کی چھوٹی چھوٹی تصویریں سجارکھی ہیں اور یہ ساری تصویریں میرے من میں بھی لگی ہوئی ہیں۔ گو ...

مزید پڑھیے

سیڑھیوں والا پل

تاری حسب معمول سورج نکلنے سے پہلے ٹین کی صندو قچی، مٹیالے رنگ کی گٹھڑی اور طوطوں کا پنجرہ اٹھائے شہر کی جانب چل پڑا ۔ جیراں نے اسے آج پھر چائے پیئے بغیرگھر سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہواتھا بلکہ اسے اکثر بِنا ناشتہ کئے دھندے کے لیے نکلنا پڑتا تھا۔ ’’جیراں ...

مزید پڑھیے

دوسرا کبوتر

انعام ابھی نیند سے پوری طرح بیدارنہیں ہوا تھا۔سکون کا نرم و گرم احساس لیے ابھی رضائی اس کے اوپر تھی کہ سرکنڈوں والی جھاڑو کی سرڑ،سر، سرڑ۔۔۔سر، کی سر سراہٹیں صبح دم مُشکی کے آنے کا اعلان کرنے لگی تھیں ۔ انعام کو عابد اور خسرو کے ساتھ چھڑوں کے اس چوبارے میں آئے چند مہینے ہی گزرے ...

مزید پڑھیے

دوسری ناہید

مجھے فلمی دنیا کے گورکھ دھندوں میں بھٹکتے ہوئے ایک عرصہ ہو چلا تھا اور اس جنون کو کسی بھی پل قرار نہ ملتا تھا۔ صبح جلد بیدار ہونا اور رات کو جلد لُوٹنا فلمی دنیا کے نصاب میں نہ تھا، مجھے اس مدرسے اور اس کے نصاب نے اب تک شادی جیسی کل وقتی مشقت سے دُور رکھا تھا۔ جو لوگ فلمی دنیا کے ...

مزید پڑھیے

حکیم جی

گلی میں ہارن کی آواز پر حکیم شجاع اللہ طلے کی کلا ہ درست کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ بیٹی نے دائیں ہاتھ میں منقش عصاء تھمایا، ان کا دوسرا ہاتھ پکڑ کر گھر کی دہلیز تک چھوڑنے آئی۔ پھر چلمن کی اوٹ سے انہیں جاتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔۔ ’’ بابا جان جلد لوٹ آئیے گا۔۔۔‘‘ روزانہ جب حکیم جی، ...

مزید پڑھیے

شناخت

ہوش سنبھالتے ہی کٹھن امتحانات شروع ہوگئے ۔ ماں سے ربط کیا ٹوٹا گویا میں اپنے مدار میں تیزی سے گھومتے ہوئے باہر آن پڑا اور بے مرکز ہو کر اپنی شناخت کھو بیٹھا ۔ میرے ساتھ یوں ہوا جیسے کمہار کے تیزی سے گھومتے ہوئے چاک سے مٹی کا تودا پھسل کر زمین پر گر پڑے اور اپنی ہیت کھو دے۔ میں بھی ...

مزید پڑھیے

آواز

’’ کیا تم میری آواز سن سکتی ہو ؟ ‘‘ ’’ ہاں ، مگر یہ تم کیوں پوچھ رہے ہو؟ ‘‘ ’’ تم اس قدرمیرے قریب ہوکہ بنا بتائے دل کاہربھیدپا لیتی ہو ؟‘‘ ’’ ہاں ہاں آخر ہوا کیا ہے؟‘‘ ’’ لگتا ہے میری آواز بے صوت ہو گئی ہے ‘‘ ’’ بے صوت ۔۔۔ اور آواز ؟ یہ آج تم پہیلیاں کیوں بھجوا رہے ہو؟ ...

مزید پڑھیے

دوسرا جنم

اس نے جب سے ہوش سنبھالا تو معلوم ہوا کہ اس کا باپ قصبے کی مسجد کا خطیب ہے جس کی وجہ سے سب لوگ انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کا باپ ہر نماز، خاص طور پر جمعہ کی نماز سے قبل لاؤ ڈسپیکر پر بڑے جذباتی انداز میں تقریر کے دوران نمازیوں کو پندو نصائح کرتا اور اخلاقیات کا درس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 176 سے 233